قیام
قیام مظاہر علوم سہارنپور
جب زمین پیاسی ہوتی ہے تو رب السمٰوات والارض پانی برساتاہے ،جب خشک سالی کے آثارچھاجاتے ہیں توآسمان پررحمت کی بدلیاں پھیل جاتی ہیں،یہ وہ انتظام الہیٰ ہے جوپروردگارعالم نے انسان کے جسم کی غذاکیلئے کیاہے ،وہ خداکہ اس کی محبت زمین کی مٹی کو خشک نہیں دیکھ سکتی اوروہ درخت کی ٹہنیوں کو سبز پتیوں اورسرخ پھولوں کی زیبائش سے محروم نہیں رکھتا، کیاوہ روح ِ انسان کوہلاکت وبربادی کے لئے چھوڑ دے گا؟ ہرگز نہیں بلکہ
رَبُّنَاالَّذِیْ اَعْطیٰ کُلَّ شَئیٍ خَلَقَہٗ ثُمَّ ھَدٰی
ہمارا رب وہ ہے جس نے کائنات کی ہر چیزکو اس کی خلقی ضروریات بخشیں پھر اس کے بعد ان کی ہدایت کا سامان فراہم کیا۔
اسی طرح جب درخت مرجھا جاتا ہے، نیکی کی کھیتیاں سوکھ جاتی ہیں، عدالت کا باغ ویران ہو جاتا ہے اور خدا کے کلمۂ حق و صداقت کا شجرۂ طیبہ بے برگ و بار نظر آنے لگتا ہے تو خدا روح ِ انسانی کو ہلاکت سے بچانے کے لئے موقع کے مناسب انتظام فرماتاہے ۔
جب ہندوستان میں ۱۸۵۷ء کے حوادث وقتیہ اورانقلابات زمانہ سے علمی شمعیں بجھنے لگیں، علوم نبوت کے ضیاع کا خطرہ پیدا ہوگیا اور محسوس کیاجانے لگا کہ اب اسلام اور اسلامیات کی بہاریں اورتسکین ِ روح و قلب کے اسباب ناپید ہو جائیں گے تو اللہ جل شانہ کی رحیم ذات کو رحم آیا اور اس نے اعلاءِ کلمۃ اللہ، اسلامی تعلیمات اور مسلمانوں کی ذہنی و روحانی استقامت کی طرف متوجہ فرمایا،چنانچہ انہوں نے ان ناگزیر حالات میں مدارس دینیہ کاجال بجھایا۔
فقیہ العصرحضرت اقدس مولانا سعادت علی (متوفی ۱۲۸۶ھ) صاحب قدس سرہٗ کی ذات گرامی تیرہویں صدی کے علماء میں اپنے تبحر علمی اور گو ناگوں محاسن و اوصاف کی بناء پر ممتاز و فائق اوریگانہ روزگار تھی علوم و فنون میں ان کو کامل دسترس اور فقہ و افتاء میں خصوصی کمال حاصل تھا ۔
حضرت سید احمد شہید (۱۲۴۶ھ)بریلوی قدس سرہٗ جیسے مجاہد جلیل سے ان کو خاص تعلق و ربط تھا اور ان کی جماعت کے اہم اور مخصوص لوگوں میں سے تھے ان کی ذات سے جو بے پناہ علمی فیضان ہوا وہ نہایت ہی اہم و مثالی اور ہندوستان کی علمی تاریخ کا ایک شاندار باب ہے، خود مولانا کا تعلیمی حلقہ اپنے دولت کدہ پر قائم تھا ،جس سے خلق خدا فیضیاب ہو رہی تھی ایک زمانہ کے بعد مختلف حالات و شئون سے گذر کر وہ علوم و فنون کا بڑا مرکز بنا اور مظاہر علوم کے نام سے مشہور ہوا جس کی دینی، مذہبی، علمی، عرفانی، اصلاحی اور تبلیغی خدمات آج مستغنی عن التعارف ہیں۔ تاریخی طور پر یہ حقیقت و واقعہ ہے کہ ہندوستان کے موجودہ بنیادی اور کلیدی مراکز اور دینی مدارس کا بیشتر سلسلہ مولانا ہی کے علمی خانوادہ کے افراد سے وابستہ ہے، یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کے اکثر علماء کبائر اور فضلائے عظام مولانا کے سلسلۂ تلمذمیں داخل نظر آتے ہیں جس سے مولانا کی عظمت شان اورمرجعیت کا پتہ چلتا ہے ۔(تفصیلی حالات کے لئے ’’بانیان مظاہرعلوم‘‘ پرکلک کریں)
مظاہرعلوم کے اصل بانی حضرت مولانا سعادت علی صاحب انصاری سہارنپوری ہیں جو فقیہ شہر سے مشہور تھے ،آپ نے یکم رجب۱۲۸۳ھ مطابق ۹؍نومبر ۱۸۶۶ء کواس مدرسہ کی مکتب کی صورت میں اپنے محلہ چوک بازداران کی مسجد میں بنیادر کھی، اطراف و جوانب، معتقدین اور اہل ثروت کو اس کا علم ہوا تو بڑی فراخدلی کے ساتھ اس کی مالی امداد کیلئے ہاتھ بڑھایا بالخصوص عالی جناب شیخ الٰہی بخش صاحب لال کرتی رئیس میرٹھ نے جو مولانا سے گہری عقیدت رکھتے تھے، بڑی دریادلی سے اعانت فرمائی اوراس کیلئے آڑے وقت میں کام آتے رہے، قیام مدرسہ سے قبل مولانا موصوف اپنے مکان پرقدیم رواج کے مطابق شائقین طلبہ کو پڑھایا کرتے تھے، مولانا عنایت الٰہی ؒصاحب مہتمم مدرسہ ہٰذا اور مولانا حافظ الحاج قمر الدینؒ خطیب جامع مسجد سہارنپور و خلیفہ حضرت مولانا خلیل احمدؒ صاحب سہارنپوری آپ کے انہیں مخصوص طلبہ میں ہیں جو اس وقت زیر تعلیم تھے اور بعد میں انہوں نے مدرسہ میں تکمیل کی، قیام مدرسہ کے بعد سب سے پہلے مدرس مولانا سخاوت علی انبہٹوی مقرر ہوئے آپ چوک بازداران کی مسجد میں اسباق پڑھاتے اور کچھ اسباق مولانا سخاوت علی صاحب پڑھاتے، باقی وقت مدرسہ کی توسیع و نظم و نسق میں صرف فرماتے تھے ،آپ کے مخلص معاون قاضی فضل الرحمن صاحب رئیس شہر سہارنپورتھے ۔جن کی سرگرم کوششوں کامدرسہ کے وجود و استحکام میں ایک نمایاں حصہ ہے ۔
قیام مدرسہ کے چار سال بعد۱۲۸۶ھ میں حضرت مولانا سعادت علی صاحبؒ کے سایہ سے مدرسہ کو محروم ہونا پڑا لیکن حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی اور مولانا محمد احسن صاحب نانوتوی کے مشورہ سے حضرت مولانا مظہر نانوتوی خلیفہ حضرت گنگوہی کو بعد شوال ۱۲۸۶ھ کو مدرس اعلیٰ بنا دیا گیا۔
حضرت موصوف صدر مدرس اور مولانا سخاوت علی صاحب مدرس دوم مقرر ہوگئے، حضرت موصوف کے علمی تبحر اور انتظامی قابلیتوں نے اس مکتب کو مدرسہ کی صورت میں تبدیل کردیا چنانچہ طلبہ کی کثرت اور مالیات کے سبب مولانا نے قاضی صاحب کے مشورہ سے مولوی عبدالرزاق صاحب کو مہتمم اور مولانا سعادت حسین صاحب بہاری خادم خاص و تلمیذ جناب نواب قطب الدین کو مدرس اول اور جناب الحاج فضل حسن صاحب ساکن محلہ چوب فروشان کو خزانچی مقرر کیا اور مدرسہ بھی مسجد سے متصل ایک کرایہ کے مکان میں منتقل کرنا پڑا،اس وقت تک یہ مدرسہ ’’مدرسہ عربی سہارنپور‘‘سے مشہور تھا۔
تعلیمی و انتظامی ارتقاء
سن ۱۲۸۴ھ میں معیار تعلیم اتنا بلند ہوا کہ انتہائی تعلیم کی جماعتیں بھی تعلیم پانے لگیں چنانچہ بیضاوی میں مولانا عبدالحقؒ، مولوی نورالحسنؒ، مولوی امیر باز خاں سہارنپوریؒ اور مشکوۃ میں مولانا عنایت الٰہیؒ، حضرت سہارنپوریؒ وغیرہ حضرات شریک ہوئے اور مولانا محمد مظہر صاحبؒ کے فیوض و برکات سے نظام مدرسہ وسعت پذیر ہوتا رہا حتیٰ کہ ۱۳۰۲ھ کے ختم پر حضرت مرحوم کے سایہ سے بھی محروم ہوگیا جس سے مدرسہ کی روز افزوں ترقی پر اثر پڑا، بالآخر حضرت گنگوہی ؒکے ارشادپر ۱۳۰۴ھ میں حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ جو مظاہر علوم ہی سے فارغ ہوئے تھے، مظاہرعلوم کی صدر مدرسی پرتشریف لائے اور۳۰؍سال تک مدرسہ میں قیام فرمایا،یہ دوراپنی گوناگوں علمی وعرفانی رفعتوں کیلئے مایۂ ناز و صد افتخار اور تاریخ مدرسہ کازرّیں باب ہے ۔
دارالطلبہ قدیم ،دارالحدیث ،مسجد کلثومیہ وغیرہ حضرت موصوف ہی کی مساعی جمیلہ کے ثمرات ہیں ، فخرالمحدثین مولانااحمدعلی صاحب محدث سہارنپوری، قطب العالم مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی، شیخ الہند مولانا محمود الحسن صاحب دیوبندی، حضرت مولانا شاہ عبد الرحیم صاحب رائے پوری، حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی، حضرت مولانا شاہ عبد القادر صاحب رائے پوری جیسی مشہور عالم بابرکت قوی النسبت ہستیاں اپنے اپنے دورمیں مظاہر علوم کے سرپرست کی حیثیت سے جلوہ گررہی ہیں اور یہ سب ہی حضرات مدرسہ کی جانب اپنی گہری دلچسپی اور خصوصی توجہ مبذول فرماتے رہے۔
حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ نے شوال ۱۳۴۴ھ میں سفر حجاز پیش آنے پر حضرت مولانا عبد اللطیف صاحب کو ناظم مدرسہ مقرر کیا انہوں نے نہ صرف اس منصب کی جملہ ذمہ داریوں کو انتہائی کامیابی کے ساتھ انجام کو پہنچایا بلکہ مختلف علمی اور تعمیری ترقیات مدرسہ کو دیں، چنانچہ طلبہ کی کثرت کی بناء پر دار الطلبہ قدیم کے ناکافی ہو جانے پر دار الطلبہ کی بنیاد ڈالی اور اس کی وسیع مسجد اور متعدد حجرے تعمیرکرائے، کتب خانہ ناکافی ہونے پراس کی عمارت کو وسعت دی۔
حضرت موصوف کی وفات پر منصب نظامت مولانا اسعد اللہ صاحبؒ کو تفویض ہوا جو پہلے نائب ناظم کے عہدے پر تھے پھر وہ ناظم ہوگئے اور نائب ناظم یکم رمضان ۱۳۸۵ھ سے حضرت مولانا مفتی مظفرحسین صاحبؒ جو مدرسہ کے صدر مفتی بھی تھے اور یہیں سے فارغ التحصیل تھے، مقرر ہوئے۔
سن ۱۳۹۹ھ میں حضرت مولانا محمد اسعد اللہ صاحبؒ کا انتقال ہوگیا تو حضرت مولانا مفتی مظفرحسینؒ دو سال تک قائم مقام ناظم رہے اور ۱۴۰۱ھ مظاہر علوم کے ناظم و متولی مقرر ہوئے۔
مظاہرعلوم سہارنپور بحمداللہ اِن اکابر و اعیان علم کی زیرنگرانی شاہراہِ ترقی پرگامزن رہا، اس کی اعلیٰ تبلیغی و تعلیمی ٹھوس خدمات جاری رہیں، اور یہ ادارہ عالم اسلامی کے ان گنے چنے اداروں میں شمار کیا جانے لگا جن کے ساتھ علوم و فنون کی بقاء، تعلیم قرآن و سنت کی اشاعت اور دین کے تحفظ و ارتقاء کی شاندار تاریخ وابستہ ہے۔
اس ادارہ کے ہزاروں فضلاء مکہ معظمہ، مدینہ منورہ، ہندوستان، پاکستان، برما، افغانستان، بخارا، ترکستان وغیرہ میں اخلاص ونیک نامی کے ساتھ اسلامی علوم وفنون کی اشاعت اور تبلیغ احکام دین کررہے ہیں۔
۲۸؍رمضان المبارک ۱۴۲۴ھ کوفقیہ الاسلام حضرت مفتی مظفرحسینؒ کے انتقال پرملال کے بعدحضرت مولانا محمد سعیدی مظاہریؒ مظاہرعلوم کے ناظم ومتولی اورجانشین فقیہ الاسلام مقرر ہوئے اور آب و تاب کے ساتھ تقریباً ۲۳؍ سال تک نظامت کے عہدے پر فائز رہ کر ۷؍ذی الحجہ ۱۴۴۶ھ مطابق ۴؍جون ۲۰۲۵ء کو انتقال فرماگئے۔
انا للہ وانا الیہ راجعون
حضرت مولانا محمد سعیدی صاحب کے انتقال کے بعد ۷؍ذی الحجہ ۱۴۴۶ھ سے حضرت مولانا مفتی محمد بدران سعیدی مد ظلہٗ عہدۂ اہتمام و تولیت پر فائز ہوئے
(نوٹ)
مظاہرعلوم کے جملہ نظماء حضرات کے تفصیلی حالات اور ان کے عہد میں مظاہرعلوم کی ترقیات کی تفصیلات کیلئے’’نظماء مظاہرعلوم‘‘پرکلک کریں۔
