⛌

بانیان کرام

حضرت حافظ فضل حق سہارنپوریؒ

حضرت اقدس الحاج حافظ فضل حقؒ شہر سہارنپور کے صاحب ثروت، رئیس اور امیر الامراء تھے، ایک طویل عرصہ تک مظاہر علوم سہارنپور کے سب سے پہلے محافظ مالیات تھے، اپنی دیانتداری اور تقویٰ و پرہیزگاری کی بناء پر اپنے عہد زریں کے تمام اکابر کے پسندیدہ اور محبوب تھے۔
مظاہر علوم سہارنپور کو موجودہ اور محلہ میں لانے کیلئے حافظ صاحب نے بے مثال قربانیاں، محنتیں اور اُس زمانہ میں عوام کی مخالفتیں برداشت کرکے اور اپنی قیمتی زمین کا ایک حصہ مدرسہ کو وقف فرما کر یہاں منتقل کرایا اسی کے ساتھ ایک بڑی رقم بھی مدرسہ میں جمع کرائی۔
مظاہر علوم کی موجودہ سب سے پہلی عمارت جو ’’دفتر مدرسہ قدیم‘‘ کے نام سے موسوم ہے اورعلیٰ حالہ برقرار ہے، اس کی تعمیر کے دوران آپؒ نے بڑی لگن اورجانفشانی کے ساتھ معماروں اور مزدوروں سے کام لیا تھا، بہ نفس نفیس تمام دن حاضر رہ کرنگرانی وخبر گیری فرماتے تھے۔
اس زمانہ میں عمارت میں جو تیار شدہ مصالحہ استعمال ہوتا تھا وہ حافظ صاحب کی ذاتی دلچسپیوں سے آپ کے گھروں اور رشتہ داریوں میں تیار ہو کر آتا تھا، گھر کی عورتیں بھی دن رات وہ مصالحہ پیس پیس کر بھیجتی رہتی تھیں۔ جو معمار حضرات ضرورت کی جگہوں پر صرف کرتے تھے۔
حضرت مولانا عنایت الٰہی سہارنپوریؒ جو بعد میں مدرسہ کے ناظم و مہتمم بھی ہوئے آپؒ کے معاون و شریک کار بن کر حساب و کتاب اور تعمیری اخراجات کی دیکھ بھال کرتے تھے۔
چونکہ اس سے پہلے تک مدرسہ کرایہ کے مکانوں میں تھا لیکن ۱۲۹۳ھ میں جب مدرسہ کی ذاتی عمارت مکمل ہوگئی تو دیگر مخیرین کے علاوہ حافظ فضل حق صاحبؒ کو بھی بہت خوشی تھی، چنانچہ آپؒ نے اس پر مسرت موقع پر ایک تقریب کا انعقاد فرمایا اور تمام شرکاء تقریب کی دعوت کی۔
آپؒ حضرت مولانا محمد مظہر نانوتویؒ کے خصوصی رفیق، دست راست، معاون خاص، خادم و عاشق اور سچے جاں نثاروں میں سے تھے، چنانچہ حضرت مولانا جتنی دیر تک درس دیتے یہ حاضر خدمت رہتے، گرمیوں کے زمانے میں مولانا کے پاس بیٹھ کر مسلسل پنکھا جھلتے رہتے تھے۔
حضرت مولانا خلیل احمد مہاجر مدنیؒ نے آپؒ کی خدمات اور للہیت و خلوص کا اعتراف کرتے ہوئے ۱۳۱۴ھ میں مظاہر علوم سہارنپور کے جلسہ ٔ سالانہ میں فرمایا تھا کہ ’’مدرسہ کا شہر کے جنوبی کنارہ سے شمالی کنارہ میں منتقل ہونا علماء کے جانثار، علم کے دلدادہ جناب حافظ فضل حق صاحب مرحوم خزانچی مدرسہ کا جذب طبیعت اور دلی کشش زبردست نہیں رکھتے تھے۔ مدرسہ کی تعمیر کے وقت اکثر حصہ زمین کا مدرسہ کو حافظ صاحب کا عطیہ ہے اور زر نقد سے بھی بہت کچھ امداد و اعانت فرمائی‘‘۔
آپؒ چونکہ بزرگوں کے صحبت یافتہ، حضرت مولانا محمد مظہر نانوتویؒ کی جماعت کے خصوصی فرد تھے اس لئے ان حضرات کی صحبتوں کا پورا پورا اثر آپ میں ہونا بدیہی امر ہے، یہی وجہ تھی کہ اعتماد و یقین اور اللہ کی ذات پر بھروسہ کرنے کی جو دولت حافظ محمد فضل حق صاحب کو عطاہوئی تھی اس کا اندازہ حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا مہاجر مدنیؒ کے تحریر فرمودہ اس واقعہ سے ہوتا ہے جو ’’آپ بیتی جلد دوم‘‘ میں موجود ہے کہ
حافظ فضل حق صاحب میرے حضرت (مولانا خلیل احمدؒ) کے استاذ شیخ المشائخ حضرت مولانا محمد مظہر نانوتویؒ جن کے نام نامی پر مدرسہ کا نام مظاہر علوم رکھا گیا، ان کے بہت ہی جانثار اور معتقد تھے، ان ہی کی کوشش سے مدرسہ قاضی کے محلہ سے جہاں ابتداءً قائم ہوا تھا یہاں منتقل ہوا جہاں اب ہے، حضرت مولانا محمد مظہر صاحب قدس سرہ کی خدمت میں ہر وقت حاضر رہتے، گرمی میں کثرت سے پنکھا جھلتے، ان کا تکیۂ کلام تھا ’’اللہ کے فضل‘‘ سے۔ ہر بات میں یہی کہا کرتے تھے کہ اللہ کے فضل سے یہ ہوا، اللہ کے فضل سے وہ ہوا۔
ایک مرتبہ حافظ صاحب نے حضرت مولانا محمد مظہر صاحب سے صبح کو یہ عرض کیا، حضرت جی! رات تو اللہ کے فضل سے اللہ کا غضب ہو گیا تھا، حضرت قدس سرہ بھی یہ فقرہ سن کرہنس پڑے اور دریافت کیا کہ حافظ جی! اللہ کے فضل سے اللہ کا غضب کیا ہو گیا تھا؟ انہوں نے عرض کیا کہ حضرت جی! رات میں سو رہا تھا اور مکان میں اکیلا ہی تھا، میری جو آنکھ کھلی، میں نے دیکھا کہ تین چار آدمی میرے کوٹھے کے کواڑ کو چمٹ رہے ہیں، میں نے ان سے بیٹھ کر پوچھا کہ ابے تم چور ہو؟ کہنے لگے ہاں ہم چور ہیں! میں نے کہا سنو! میں شہر کے رؤساء میں شمار ہوں اور مدرسہ کا خزانہ بھی میرے پاس ہے اور وہ سارا کا سارا اسی کوٹھے میں ہے اور یہ تالا جو اس کو لگ رہا ہے چھ پیسے کا ہے، تمہارے باپ دادا سے بھی نہیں ٹوٹنے کا، تم تو تین چار ہو، دس بارہ کو اور بلا لاؤ، اور اس تالے کو ٹھوکتے رہو، یہ ٹوٹنے کا نہیں، میں نے حضرت جی! (مولانا محمد مظہر نانوتویؒ) سے سن رکھا ہے کہ جس مال کی زکوۃ دے دی جاوے وہ اللہ کی حفاظت میں ہوجاتاہے ،میں نے اس مال کی جتنی زکوۃ واجب ہے اس سے زیادہ دے رکھی ہے، اس لئے مجھے اس کی حفاظت کی ضرورت نہیں، اللہ میاں اپنے آپ حفاظت کریں گے۔
حضرت جی! اللہ کے فضل سے میں تو یہ کہہ کر سو گیا۔ میں جب پچھلے پہر کو اٹھا تو وہ لپٹ رہے تھے میں نے ان سے کہا کہ ارے !میں نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ دس بارہ کو اور بلا لاؤ، یہ تالا اللہ کے فضل سے ٹوٹنے کا نہیں۔
حضرت جی!یہ کہہ کرمیں تو اللہ کے فضل سے نماز میں لگ گیا اور جب اذان ہو گئی تو میں ان سے یہ کہہ کر کہ میں تو نماز کو جا رہا ہوں تم اس کو لپٹتے رہو، پھر حضرت جی اللہ کے فضل سے وہ سب بھاگ گئے‘‘۔ (آپ بیتی جلددوم)
حضرت شیخ الحدیثؒ نے ایک اور جگہ رقم فرمایا ہے کہ
’’جناب الحاج فضل حقؒ صاحب جو اعلیٰ حضرت مولانا محمد مظہر نانوتوی نوراللہ مرقدہ کے خادم خاص اور مظاہر علوم کے محسن اعلیٰ تھے‘‘
صفر المظفر ۱۳۰۲ھ میں آپؒ کا انتقال ہوا، وصال کا سبب وہ زخم بنا جو گنا چھیلتے وقت آپ کے ہاتھ میں لگ گیا تھا۔
حافظ صاحب مرحوم کے بارے میں جو تاثرات روداد مدرسہ میں شائع ہوئے وہ یہ ہیں۔
اس سال میں چند حادثۂ عظیم مدرسہ ہذا پر بلکہ عام مسلمانانِ شہر سہارنپور پر ایسے واقع ہوئے کہ جن کے بیان سے بدن کو رعشہ ہوتا ہے اور سننے والوں کو رونا آتا ہے۔
اول واقعہ: حافظ محمد فضل حق صاحب خزانچی مدرسہ کا ہے کہ جن کی ذات خاص سے مدرسہ کے لئے بہت کچھ امداد و اعانت تھی اور نیز کیا مدرسہ اور کیا مسجد اور دوسرے امور خیر، ہر قسم کا روپیہ حافظ صاحب ممدوح کے پاس امانت اس خوبی سے رہتا تھا کہ جس وقت رات کو خواہ دن کو کوئی جز یا کل امانت طلب کرتا، فوراً واپس حوالہ ہوتا تھا، علاوہ بریں باوجود نہ ہونے زیادہ استطاعت کے خیر طبعی بہت تھی۔ اکثر طلباء خواستگار گرد ہی رہتے تھے اور بایں ہمہ بطور خاص ہر وقت جان و مال سے مدرسہ خبر گیراں رہتے، مدرسین اور طلبہ کو ان سے ہر قسم کی معاونت تھی۔
مدرسہ کو ان کے انتقال سے ایک سخت مشکل یہ پیش آئی کہ تحویل دار مثل ان کے نظر نہیں آتا، واقعی ایسا امانت دار، دیندار خیر خواہ مسلمین ہونا بہت مشکل ہے‘‘۔
حضرت مولانا فیض الحسن صاحبؒ ادیب اپنے ماہنامہ اخبار شفاء الصدور میں حضرت حافظ فضل حق صاحب کے حادثہ وفات کی اطلاع بڑے بلند اور وقیع الفاظ میں دیتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں۔
وھکذا موت الحافظ فضل حق السھارنفوری فانہ کان جواداً کریماً امیناً متدیناً محباً للعلماء معاوناً لمدرسۃ السھارنفور
چند سطروں کے بعد مزید تحریر فرماتے ہیں وبالجملۃ عاش ما عاش سعیداً ومات اذ مات حمیداً
حضرت حافظ فضل حق صاحبؒ کے انتقال کے بعد ’’مہتمم مالیات‘‘ کے تقرر کا مسئلہ پیش آیا تو حضرت مولانا فیض الحسنؒ نے اپنی مؤمنانہ فراست اور عارفانہ بصیرت سے حضرت حاجی الٰہی بخشؒ کونہایت موزوں سمجھا چنانچہ حاجی الٰہی بخش کو ’’مہتمم مالیات‘‘ کا عہدہ سپرد کیا گیا (روداد مظاہر علوم ۱۳۲۱ھ)
۱۳۲۱ھ میں جناب حافظ الٰہی بخش صاحب موصوف کا بھی وصال ہوگیا تو مدرسہ کا یہ عہدہ حاجی احمد جان صاحب کی طرف منتقل ہوا۔
حضرت حافظ فضل حقؒ کے صاحب زادگان میں دو حضرات کے اسماء گرامی آپ بیتی میں ملتے ہیں ایک حافظ زندہ حسن صاحب اور دوسرے حافظ الحاج شیخ حبیب احمد صاحبان یہ دونوں حضرات بھی والد ماجد کے نقش قدم پر چلتے رہے، علماء اور اکابر سے خصوصی تعلق رکھا، خیر کے کاموں میں حصہ لیتے رہے، حضرت گنگوہی اور حضرت مولانا محمد یحییٰ کاندھلویؒ سے خصوصی عقیدت و محبت تھی، یہی وجہ ہے کہ جب حضرت مولانا محمد یحییٰ کاندھلویؒ کا وصال ہوا اور تدفین کے معاملہ میں عوام میں اختلاف رائے ہوا تو یہی صاحب زادگان اس بات پر مصر ہوئے کہ چونکہ حضرت مولانا محمد یحییٰ کاندھلویؒ کا حضرت مولانا محمد مظہر نانوتویؒ سے خصوصی تعلق تھا اور حضرت نانوتویؒ قبرستان حاجی شاہ کمال میں مدفون ہیں اس لئے آپؒ کی تدفین بھی ان ہی کہ جوار میں ہونی چاہئے چنانچہ یہی فیصلہ ہوا اور حاجی شاہ میں تدفین عمل میں آئی۔
جس طرح حافظ فضل حقؒ نے مدرسہ کی سب سے پہلی عمارت دفتر مدرسہ قدیم کے لئے زمین وقف فرمائی تھی، آپؒ کے فرزندجناب حافظ زندہ حسنؒ صاحب مرحوم نے بھی مدرسہ کی دوسری سب سے اہم عمارت ’’دارالطلبہ قدیم‘‘ کی تعمیر کے لئے سرائے کیدارناتھ میں واقع اپنی زمین مدرسہ کو وقف کی تھی۔


ہماری شاخیں

Designed by Madrasa Mazahir Uloom itself