انجمن ہدایت الرشید
کفروارتدادکی آندھیوں نے جب زورپکڑلیا ، نت نئی سازشوں نے خطرناک شکلیں اختیار کرلیں ،شدھی سنگھٹن اورآریہ سماج نے اپنی تحریک کے تمام دروازے وا کردئے اورمسلمانوں کی ایک بڑی جماعت ارتداد کی راہوں پر چل پڑی چنانچہ مدرسہ کی سالانہ رودادبابت ۱۳۴۹ھ میں اس وقت کا اسلام دشمن ماحول،کفریہ سازشوں،ملحدانہ ومشرکانہ سرگرمیوں اورعیسائی وشدھی منصوبہ بندیوں کوان الفاظ میں بیان کیاگیاہے۔
’’ناظرین کرام!دشمنان اسلام کی موجودہ سرگرمیوں نے مسلمانوں کی ایذارسانی میں کوئی دقیقہ باقی نہیں رکھا ہے، اگرایک طرف عیسائیت کا بڑھتاہواسیلاب اورشدھی وغیرہ کی فتنہ خیزآندھی ہے تودوسری طرف مرزائیت وشیعیت ودیگر باطل پرستوں کاشررانگیزسیلاب ہے،تمام مخالفین اسلام کھلم کھلاشب وروزاسی فکرمیں اپنی تمام قوت بے دریغ صرف کررہے ہیں کہ اسلام کوصرف ہندوستان سے نہیں بلکہ صفحۂ دنیاسے نیست ونابودکردیاجائے،چنانچہ اس کام کیلئے عیسائیوں کا عالم گیر مشن ہرشہرمیں قائم ہے،جس نے صدہامسلمانوں کواپنی زرپاشیوں کاسبزباغ دکھاکرآغوش اسلام سے نکال لیاہے،علیٰ ہذالقیاس آریوں بھارتیہ ہندوشدھی سبھاکاہیڈآفس دہلی میں قائم ہے،جس کی شاخیں تمام ہندوستان میں پھیلی ہوئی ہیں،جن کا فرض منصبی یہی ہے کہ مسلمانوں کومرتدبناکراسلام کومٹادیاجائے‘‘۔
مذکورہ ناگزیر ضروریات زمانہ کے پیش نظر تقریر، وعظ اورمناظرہ ومباحثہ کی قوت پیدا کرنے کیلئے ۱۳۳۰ھ کو انجمن ہدایت الرشیدکاانعقادعمل میں آیا،حضرت مولانارشید احمد گنگوہیؒ کے اسم مبارک پرنام رکھاگیا ، ابتداء ً اس کے سرپرست حضرت سہارنپوریؒ اورصدرحضرت مولانا عبد اللطیف ؒمقرر ہوئے ، اس انجمن کے کارناموں کی ایک مسلسل تاریخ ہے ،اس کے ارکان نے اپنی انتھک تبلیغ وہدایت سے جس طرح کفر وشرکا دفاع کیاہے وہ مدرسہ کی تبلیغ واشاعت دین کی تاریخ میں ایک ممتاز ومؤقر درجہ رکھتی ہیں ۔
مدرسہ کے سالانہ جلسوں کے ساتھ مشاہیر علماء کی صدارت میں اس کے مستقل جلسے بھی ہوتے تھے جن میں طلبہ کی تقریریںاوراردو فارسی کے مکالمے ہوتے تھے اب طلبہ کی علاقائی انجمنیں قائم کردی گئی ہیں جس کی وجہ سے تقریباً تمام طلبہ کوشرکت کانہ صرف موقع ملتاہے بلکہ مدرسہ کی جانب سے انجمنوں کے پروگراموں کی شرکت کی ترغیب اورتحریض بھی ہوتی رہتی ہے ۔ ہر جمعرات کویہ انجمنیں اپنے مقاصد کی تکمیل میں مصروف عمل رہتی ہیں ،مہینہ میں دوبارانجمن ہدایت الرشیدکی زیرنگرانی دارالحدیث قدیم میں مجلس مناظرہ ہوتی ہے جس میں دورہ اورافتاء کے طلبہ حصہ لیتے ہیں ۔ طلبہ کی علاقائی انجمنوں کے ذاتی کتب خانوں کے علاوہ انجمن ہدایت الرشیدجوتمام انجمنوں کی نگراں ہے اس کااپنابھی ایک کتب خانہ ہے جس سے طلبۂ مدرسہ استفادہ کرتے ہیں اور یہ کتب خانہ مظاہر علوم کے مرکزی کتب خانہ کے علاوہ ہے ۔
تقریباً تین درجن علاقائی انجمنیں الحمدللہ اپنی تقریری وتحریری مشق کے لئے مصروف عمل ہیں۔
