بانیان کرام
حضرت مولانا محمد مظہر نانوتویؒ
خانوادۂ شیخ لطف علی کے چشم و چراغ، چمنستان شاہ اسحٰق محدث دہلویؒ (۱۱۷۶ھ - ۱۲۶۲ھ) کے گل سرسید حضرت مفتی صدرالدین آزردہؒ (۱۲۰۴ھ - ۱۲۹۵ھ) کے شاگرد رشید، استاذ الکل حضرت مولانا مملوک العلی صاحب نانوتوی (متوفی ۱۲۶۷ھ) کے منظور نظر، متانت و سنجیدگی کے دلنواز پیکر، علم و فضل میں یکتا، حدیث و تفسیر، فقہ و فتاویٰ، منطق و فلسفہ اور فصاحت و بلاغت کے شناور، تحقیق و تجسس اور کاوش و نگارش میں منفرد، دقیق و باریک مسائل کے افہام و تفہیم میں یگانہ، عالم باعمل، فاضل افضل، محدثِ ابجل، تقوی وطہارت، زہد و قناعت، سلوک و طریقت، عبادت و ریاضت، خلوص و للّٰہیت، استغنا و بے نیازی اور مختلف صفات محمودہ اور کمالات حسنہ کے مظہر و خوگر، اوقات و معمولات کے پابند، تکلف سے دور، تصنع سے نفور، سادگی پسند، سادہ طبیعت، فقیہ العصر حضرت مولانا سعادت علی فقیہ سہارنپوریؒ کے فدائی، امام ربانی حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کے شیدائی، مظاہر علوم سہارنپور کے اولین صدر المدرسین، فخر الاماثل، زبدۃ الافاضل حضرت مولانا محمد مظہرحسینؒ اپنے وطن نانوتہ میں ۱۲۳۷ھ - مطابق ۱۸۲۱ء کو پیداہوئے۔
نام و نسب
آپؒ کا تاریخی نام محمد مظہر ہے اور اسی سے مشہور ومعروف ہوئے ،صدیقی خاندان کے چشم و چراغ تھے، سلسلۂ نسب اس طرح ہے۔
حضرت مولانا محمد مظہر بن جناب حافظ لطف علی بن حافظ محمد حسن بن حکیم غلام اشرف بن حکیم عبد اللہ بن شیخ ابو الفتح محمد مفتی بن مولوی محمد ہاشم بن شاہ محمد بن قاضی طٰہ بن مفتی مبارک بن قاضی امان بن قاضی جمال الدین بن قاضی میراں بڈھے بن قاضی مظہر الدین بن نجم الدین بن نورالدین بن قیام الدین بن ضیاء الدین بن نورالدین بن نجم الدین بن نور الدین بن رکن الدین بن رفیع الدین بن بہاؤ الدین بن شہاب الدین بن خواجہ یوسف بن خلیل بن صدر الدین بن رکن الدین سمرقندی بن صدر الدین الحاج بن اسماعیل الشہید بن نور الدین القتال بن محمود بن بہاؤ الدین بن عبد اللہ بن زکریا بن نور بن سراج بن شادی الصدیقی بن وحید الدین بن مسعود بن عبدالرزاق بن قاسم بن محمدؓ بن ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ (نسب نامہ شیوخ نانوتہ ص ۵ و مکتوبات مولانا محمد یعقوب)
تعلیم و تربیت
قرآن کریم کے حفظ اور ابتدائی کتب کی پوری تعلیم اپنے والد ماجد حضرت حافظ لطف علی صاحبؒ کے پاس مکمل ہوئی، اپنی ذہنی صلاحیت اور عمدہ تعلیم و تربیت کی وجہ سے اپنی نوعمری ہی میں نہایت ہوشیار و ہوشمند تھے اور آپ کے اسی وقت کے طور و طریق سے ذکاوت و ذہانت آشکار تھی، وطن کی ابتدائی تعلیم کے بعد استاذ الکل حضرت مولانا ممکوک العلی صاحبؒ نانوتوی اپنے ساتھ دہلی لے گئے۔ اوراستاذ الکلؒ کی بیمثال تعلیم و تربیت اور وہاں کے خالص ماحول نے بڑا کام کیا چنانچہ اسی وقت اپنے رفقاء اور مولانا مملوک العلی صاحبؒ کے حلقہ میں آپؒ کی لیاقت و صلاحیت کا شہرہ ہوگیا تھا۔
مسلم یونیورسٹی کے بانی جناب سرسید احمد خاںؒ (۱۸۱۷ء - ۱۸۹۸ء) لکھتے ہیں۔
مولوی صاحب ممدوح بہت بڑے عالم تھے جس زمانہ میں دہلی میں طالب علم تھے اسی زمانہ میں ان کی ذہانت مشہور تھی،تقویٰ وورع میں بھی نہایت اعلی درجہ رکھتے تھے۔
دہلی میں حضرت مولانا مملوک العلی صاحب نانوتویؒ کے علاوہ صدر الصدور حضرت مفتی صدر الدین آزردہ دہلوی، حضرت مولانا رشید الدین خاں صاحب دہلوی (۱۸۳۴ء )کے سامنے زانوئے تلمذ بھی طے کیا۔
حدیث نبوی شریف کی تعلیم حضرت شاہ عبد الغنی مجددی (۱۸۲۰ء - ۱۸۷۹ء مدینہ) محدث کبیر حضرت مولانا احمد علی صاحب محدث سہارنپوریؒ(۱۸۱۰ء -۱۸۸۰ء )سے پڑھنے کا شرف حاصل کیا۔
ان حضرات کے علاوہ مدرسہ صولتیہ مکۃ المکرمہ کے بانی مناظر اسلام حضرت مولانا رحمت اللہ صاحب کیرانوی، اور مدینہ منورہ کے جلیل القدر عالم حضرت شیخ عبد الغنی بن سعید العمری سے بھی علمی استفادہ فرمایا تھا جس کا تفصیلی تذکرہ’’حج بیت اللہ‘‘کے تحت آئیگا۔
ملازمت
تعلیم سے فراغت کے بعد اجمیری کالج تشریف لے گئے کجھ عرصہ کے تک تعلیم دینے کے بعد آگرہ کالج تشریف لے گئے اور وہاں معیاری تنخواہ اور عہدہ سونپا گیا مگر وہاں بھی آپ زیادہ قیام نہ فرما سکے چنانچہ دہلی میں بھی کچھ عرصہ کیلئے ملازم ہوگئے اور تھوڑے ہی عرصہ کے بعد مکتبہ نول کشور لکھنؤ (جودینی و اصلاحی اور درس نظامی کے علاوہ بہت وقیع نادر و نایاب کتب کی اعلی کتابت و طباعت میں مشہور و معروف تھا) تشریف لے گئے اور عربی اُردو اور فارسی کی کتب کی تصحیح وغیرہ فرماتے رہے دوسری طرف متعدد طلبہ نے آپ سے فقہ، اصول فقہ اور علم کلام کی کتب پڑھنے کا شرف حاصل کیا۔ ایک مدت تک اسی کام میں مشغول رہے، تصنیفات و تالیفات اور ان کی طباعت و اشاعت کا سلسلہ بھی چلتا رہا چنانچہ متعدد مصنفین کی کتب کی تصحیح اور حضرت موصوف کی نظر ثانی کے بعد ہی مکتبہ نول کشور لکھنؤ سے چھپتی تھیں، خود منشی نول کشور مرحوم مولانا محمد مظہرصاحبؒ نانوتوی کے شاگرد تھے۔
استاذ محترم حضرت مولانا اطہرحسینؒ نے فرمایا کہ منشی نول کشور حضرت مولانا محمد مظہرصاحب نانوتویؒ کی عمدہ صحبت اور بہترین تربیت کی وجہ سے مولانا کے بڑے مداح اور عقیدتمند تھے، مولانا کا بیحد اکرام و احترام اور حد درجہ ادب کرتے تھے، آپؒ کی صحبت صالح ہی کا نتیجہ تھا کہ منشی نول کشور بہترین داڑھی، شاندار کرتا و پائجامہ اور نفیس عمامہ استعمال کرتے تھے۔
جہاد آزادی
۱۸۵۷ء کے دوران اکابر علماء دیوبند انگریزی استبداد سے چھٹکارا اور ان سے باقاعدہ جنگ کی تیاریاں کرہی رہے تھے کہ تھانہ بھون کے مشہور قاضی عنایت علی کے چھوٹے بھائی عبد الرحیم صاحب ہاتھی خریدنے کی غرض سے سہارنپور آئے کسی دشمن نے حکومت کو غلط خبر دی کہ قاضی عبد الرحیم دہلی کمک بھیجنے کیلئے ہاتھی خریدنے کی غرض سے سہارنپور آئے، انگریز بوکھلایا ہوا تھا ہی اس وقت کے کلکٹر کا نام اسپینکی تھا جس نے واقعہ کی تحقیق و تفتیش کے بجائے مسلمانوں کو خوف زدہ کرنے کیلئے قاضی عبد الرحیم کو ان کے ساتھیوں سمیت گرفتار کرکے پھانسی دیدی، اس افسوسناک خبر سے سہارنپور کے اطراف و جوانب میں انتقام کا جذبہ بھڑک اٹھا، سید الطائفہ حضرت اقدس حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکیؒ، حضرت ضامن شہیدؒ، حضرت مولانا شیخ محمد تھانویؒ، حضرت مولانا محمد مظہرصاحب نانوتویؒ، حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہیؒ ،حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتویؒ، حضرت مولانا محمد احسن صاحب نانوتویؒ، حضرت مولانا محمد منیر صاحب نانوتویؒ اور قاضی عنایت علی وغیرہ نے ایک مجلس منعقد کی، اس مجلس میں مولانا شیخ محمد صاحب تھانویؒ نے جہاد کے خلاف رائے دی اور فرمایا :
’’جب قاضی عنایت علی صاحب عام جنگ کے دوران خاموش رہے اور حاضرین مجلس سے بھی اس وقت کسی نے اسکو ’’جہاد‘‘ سمجھ کر حصہ نہیں لیا تو اس وقت جب کہ انتقام کا جذبہ کار فرما ہے اس لڑائی کو جہاد کیسے کہا جاسکتا ہے‘‘
حضرت مولانا محمد مظہر صاحب نانوتویؒ کے چھوٹے بھائی حضرت مولانا محمد احسن صاحب نانوتویؒ نے بھی حضرت مولانا شیخ محمد صاحب تھانویؒ کی تائید کی اس پران کے بڑے بھائی مولانا محمد مظہرصاحب نانوتویؒ (صدر المدرسین مظاہرعلوم سہارنپور) نے ڈانٹا۔
بہر حال صلاح مشورہ کے بعد طے ہوا کہ انگریز سے باقاعدہ جہاد کیا جائے اور شاملی کو میدان جنگ کیلئے مقرر کیا گیا چنانچہ سید الطائفہ حضرت اقدس حاجی امداد اللہ صاحب تھانوی مہاجر مکیؒ امیر المؤمنین، حضرت حافظ ضامن شہیدؒ جہاد کے سب سے بڑے علمبردار، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ جامع مجاہدین اور حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتویؒ امیر لشکر مقرر ہوئے۔
اور مٹھی بھر یہ نہتّا دستہ جن کے عزائم و ارادوں میں شاہین کا عزم اور پہاڑوں کی استقامت تھی شاملی کے میدان میں انگریز فوج سے بر سرپیکار ہوئے اور مسند درس پربیٹھنے والے یہ اکابر علماء جن کے نازک ہاتھوں نے کتابوں کے علاوہ کسی چیز کو ہاتھ نہیں لگایا تھا مگر وقت آنے پر چشم فلک ان کے مجاہدانہ کارناموں، کفر و شرک اور اسلام دشمن فوجوں پر یلغار سے حیرت زدہ رہ گیا، حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتویؒ کی جرأت و بہادری کو دیکھ کر حضرت حاجی صاحب نے مولانا محمد مظہر صاحب کے سب سے چھوٹے بھائی حضرت مولانا محمد منیر صاحب نانوتویؒ سے فرمایا :
’’مولانا محمد قاسم بالکل آزاد اور جری ہیں، ہر صف میں بے محابا گھس جاتے ہیں اس لئے آپ کسی وقت ان کا ساتھ نہ چھوڑیں‘‘
چنانچہ مولانا محمد منیر صاحبؒ نانوتوی سایہ کی طرح حضرت مولانا محمد قاسم صاحب کے ساتھ لگے رہے، مگر مولانا محمد قاسم صاحبؒ کو جذبۂ جہاد و شوق شہادت اور کفار فجار کے اس دنیا سے صفایا کرنے کے آگے اپنی نگرانی کی بالکل اطلاع نہ ہوئی۔
۱۸۵۷ء کے اس جہاد میں مظاہر علوم کے روح رواں حضرت مولانا محمد مظہرصاحب نانوتویؒ نے بھی اپنی ہمت و شجاعت اور دلیری و جوانمردی کے جوہر دکھائے تھے چنانچہ کفار کی طرف سے ایک گولی آپؒ کے ٹخنہ میں لگی جس کی وجہ سے بیہوش ہوگئے تھے، پورا واقعہ حضرت مفتی محمود حسن گنگوہیؒ کی زبانی سنئے، فرماتے ہیں:
’’مجھ سے ایک شخص نے ہردوئی میں بیان کیا کہ حضرت مولانا محمد مظہر صاحب نانوتویؒ زبان بہت کثرت کے ساتھ اپنے ہونٹوں پر پھیرتے تھے کسی کے اصرار کے ساتھ دریافت کرنے پر فرمایا کہ ۱۸۵۷ء میں میں بھی جہادمیں شریک تھا،میرے (پیرمیں) گولی لگی، میں گر گیا اسی حال میں دیکھا کہ حوریں شربت کے گلاس لیکر آئیں اور شہیدوں کو پلانا شروع کردیا، ایک گلاس میرے سامنے بھی لایا گیا، میں نے جس وقت اس کو منہ لگایا اور میرا لب تر ہوا تو دوسروں نے یہ کہکر وہ گلاس ہٹالیا کہ ابھی اس کی حیات باقی ہے ان (شہیدوں) میں سے نہیں، وہ لذت ہونٹوں پر اب تک باقی ہے جو مجھے چین نہیں لینے دیتی‘‘
حضرت مولانا محمد مظہر صاحب نانوتویؒ نے ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد کئی سال تک روپوشی کی زندگی بسر فرمائی کیونکہ اس جنگ میں شریک ہونے والے تمام حضرات کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری ہوچکے تھے، پروفیسر ایوب قادری نے ’’تذکرہ مولانا محمد احسن نانوتویؒ‘‘ میں لکھا ہے کہ حضرت مولانا محمد مظہر صاحبؒ نے روپوشی کا زمانہ بریلی میں گزارا جہاں آپ کے بھائی مولانا محمد احسن صاحب کا ذاتی مطبع تھا۔
مظاہرعلوم میں تشریف آوری
۱۲۸۳ھ میں جب فقیہ العصر حضرت مولانا سعادت علی صاحب نے مظاہر علوم قائم فرمایا تو حضرت مولانا محمد مظہرصاحبؒ جیسے قابل و فاضل، عالم و ماہر اور ان کے مرشد سید الطائفہ حضرت حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکیؒ کی زبان میں’’یکتائے زمانہ‘‘ کی ضرورت تھی، چنانچہ خود حضرت بانی علیہ الرحمہ نانوتہ تشریف لے گئے اور اپنے ساتھ مولانا محمد مظہر صاحبؒ کو لیکر آئے مظاہر علوم کی عمر اس وقت صرف تین ماہ تھی گویا شوال ۱۲۸۳ھ میں مولانا محمد مظہرصاحب نانوتویؒ نے اپنے قدوم میمنت لزوم سے مظاہرعلوم کو سرفراز فرمایا۔
جب مولانا محمد مظہر صاحب نانوتویؒ سہارنپور تشریف لے آئے تو جناب منشی نول کشور صاحب لکھنؤ سے بغرض ملاقات آئے لیکن وضع قطع اور شکل و صورت سے یہ بتانا مشکل تھا کہ یہ مسلمان ہیں یا ہندو، یہ سب حضرت مولانا محمد مظہر صاحبؒ کی برکت تھی، منشی نول کشور نے اس وقت مظاہر علوم میں چل رہی ایک عمارت کی تعمیر میں مبلغ ایک سو پینتالیس روپے بھی دئے تھے اس کے علاوہ اپنے مطبع کی وقیع کتابوں اور مطبوعات سے بھی مظاہر علوم کو نوازتے رہتے تھے (منشی نول کشور کا تذکرہ حضرت محدث اعظمؒ نے مجمع بحار الانوار کے مقدمۃ الکتاب میں بھی کیا ہے)۔
مظاہر علوم سہارنپور آنے کے بعد آپ کو صدر المدرسین کا عہدۂ جلیلہ سونپا گیا، اس کے علاوہ حدیث و تفسیر کی اعلیٰ معیار ی کتابیں آپ کے زیر درس رہیں، آپ کی تعلیم جد و جہد کی وجہ سے طلبہ کی استعداد و صلاحیت میں پختگی پیدا ہونے لگی، آپ سے متعلقہ اسباق اور جماعت کے طلبہ پورے مدرسہ میں سب سے اعلیٰ، نمبرات امتحان میں کامیاب ہوتے اور حضرات ممتحنین مولانا محمد مظہرصاحب نانوتویؒ کی قابلیت و مہارت،اسلوب و انداز اور طلبہ پر محنت کی داد دیتے تھے، آپ کی محنت سے تعلیمی معیار بھی بلند ہوا، طلبہ کی کامیابی کا اوسط بڑھ گیا جس کا اعتراف ذمہ داران مدرسہ فقیہ العصر حضرت مولانا سعادت علی صاحب فقیہ سہارنپوریؒ، حضرت قاضی فضل الرحمن صاحب اور شیخ الہندؒ کے والد حضرت مولانا ذو الفقار علی صاحب دیوبندیؒ (متوفی ۱۹۰۴ء) نے بڑے انشراح کے ساتھ کیا ہے اور امید ظاہر کی کہ دیگر مدرسین بھی مولانا موصوف کی طرح تعلیم میں دلچسپی لیتے ہوں گے۔
۱۳۰۱ھ میں حضرت مولانا محمد مظہر صاحب نانوتویؒ کی وفات سے ایک سال قبل مظاہر علوم کے سرپرست حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ نے طلبۂ مظاہر کا امتحان لیا تو جو طلبہ حضرت مولانا محمد مظہر صاحب کے پاس پڑھتے تھے ان کی تعریف بایں الفاظ فرمائی۔
’’یہ احقر العباد جو چوبیسویں جمادی الثانیہ ۱۳۰۱ھ میں مدرسہ عربیہ سہارنپور میں حاضر ہوا تو چند جماعت کا امتحان خواندگی، ازاں جملہ دو شخص درمختار خواں کو کہ جماعت اولی مدرس اعلیٰ مولوی محمد مظہر صاحب مد فیوضہم کی تھی قابل اجازت و ذی استعداد پایا کہ پڑھنے میں فکر و فہم کو حاضرکرتے تھے، لہٰذا ان کو مجمع عام جامع مسجد میں روز جمعہ اجازت دیکر دستار باندھی گئی۔
حضرت مولانا محمد مظہرصاحبؒ نانوتوی تقریباً ۱۹/سال تک مظاہر علوم کی خدمت انجام دیتے رہے حالانکہ آپ کا مشاہرہ صرف پچیس روپئے تھا اس کے باوجود آپ نے بڑی بڑی پیشکش اور خطیر تنخواہ کو ٹھکرادیا، خود مولانا سید احمدخان نے علی گڑھ بلایا چاہا لیکن آپ نہیں گئے کیونکہ مظاہر علوم آپ کے بزرگوں اور اساتذہ کا مدرسہ تھا جس کے ذرے ذرے سے آپ کو محبت اور عشق تھا، ۱۹/سال کے درمیان ذیل کتب کا باقاعدہ درس دیا:
’’بخاری شریف، مسلم، ترمذی، ابودائود، نسائی، ابن ماجہ، مشکوٰۃ، مؤطا امام مالک، سنن دارمی، شمائل ترمذی، ہدایہ، درمختار، قدوری، کنز الدقائق، شرح وقایہ، نور الانوار، اصول الشاشی، جلالین، ترجمہ قرآن، بیضاوی، کشاف، مختصر المعانی، دیوان متنبی، مقامات حریری، حماسہ، سبعہ معلقہ، نفحۃ الیمن، تاریخ یمنی، قصیدہ ہمزیہ، تاریخ تیموری، جبر و مقابلہ، حصن حصین، نخبۃ الفکر، خطبۂ قاموس وغیرہ مذکورہ بالا کتابوں میں بعض بعض کتابیں ایسی بھی ہیں جن کو ایک سال میں دو دو بار پڑھایا کرتے تھے۔
تعلیم و تعلم کے علاوہ مظاہر علوم کی تعمیرات کا خیال، فراہمی مالیات کیلئے دور دراز کے اسفار طلبۂ عزیز کی نگرانی،غرض جب تک حیات رہے دامے، درمے، قدمے، سخنے امداد و تعاون اور دیکھ بھال کی پوری ذمہ داری آپ کے سپرد رہی اور مولانا عبد الحئی کے الفاظ میں ’’آپ نے آپ کو مظاہر علوم کیلئے وقف اور فنا کردیا تھا‘‘ مولانا سید محمد ثانی حسنی مظاہریؒ (۱۳۵۴ھ - ۱۳۹۹ھ) لکھتے ہیں :
’’درحقیقت مظاہر علوم کی ترقی اور تعمیر جدید میں آپ کا ہاتھ نمایاں تھا اور آپؒ ہی کے نام پر اس مدرسہ عربیہ کا نام مظاہر العلوم رکھاگیا، اللہ نے آپؒ کو سادگی و متانت تواضع و انکساری، احتیاط و ورع، عبادت و ریاضت کے ساتھ ساتھ ذہانت و ذکاوت، حسن انتظام، علم و فضل اور متعدد علوم میں لیاقت و کمال کی دولتوں سے پوری طرح نوازا تھا‘‘۔
حضرت مولانا مفتی محمد نسیم صاحب فریدی امروہویؒ (متوفی ۱۴۰۹ھ ۱۹۸۸ء) لکھتے ہیں
’’آپ نے اپنی پوری عمر مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور میں قرآن و حدیث کی تعلیم و تدریس اور علوم فنون کی نشر و اشاعت میں گزار دی۔
آگے ارقام فرماتے ہیں:
’’مولانا محمد مظہر صاحب ایک جید اور متبحر عالم تھے، علوم و فنون میں آپ کو بڑا رسوخ حاصل تھا، مدرسہ مظاہر علوم کے صدر مدرس مقرر ہوئے۔
جناب سرسید احمد خان نے مولانا محمد مظہر صاحبؒ کی وفات پر لکھا تھا کہ:
’’افسو س ہے کہ مولوی مظہر جو عربی مدرسہ سہارنپور میں مدرس تھے اور ان ہی کی ذات بابرکت سے اس مدرسہ کو رونق اور عزت تھی‘‘
آگے چل کر لکھتے ہیں:
’’بیس برس سے زائد انہوں نے اپنے ہم قوموں میں علوم دین کی فیض رسانی پرکمر ہمت باندھی تھی اور عربی مدرسہ سہارنپور میں پا شکستہ ہوکر بیٹھ گئے، آمدنی مدرسہ سے صرف پچیس روپئے ماہوار بقدر گزر اوقات لیتے تھے اور علوم کی تعلیم میں مصروف تھے، بہت لوگ ان سے فیضیاب ہوئے۔
بہرحال مولانا موصوفؒ تاحین حیات مدرسہ کی دیکھ ریکھ، خبرگیری، انتظامی امور سے لیکر تدریسی معاملات تک پورا کنٹرول رکھتے تھے چنانچہ مولانا محمد زکریا صاحبؒ (متوفی ۱۹۸۲ء -۱۳۰۳ھ) فرماتے ہیں:
’’حضرت ممدوح گویا ابتداء مدرسہ سے اب تک ہرنوع کا جزوی وکلی نظم فرماتے تھے۔
بیعت و خلافت
حضرت مولانا محمد مظہر صاحب نانوتویؒ کے گھریلو تعلقات شروع ہی سے حضرت اقدس حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکیؒ سے قائم تھے حتی کہ گھر کی عورتیں بھی حضرت حاجی صاحبؒ سے بیعت و ارادت کا تعلق رکھتی تھیں، حضرت حاجی صاحبؒ بھی وقتاً فوقتاً نانوتہ تشریف لے جاتے تو خانقاہِ لطف علی میں بہار آجاتی، ہر شخص شاداں و فرحاں نظر آتا تھا، حضرت حاجی صاحبؒ کی ولادت بھی ۱۲۳۳ھ میں نانوتہ ہی میں ہوئی تھی، آپ کی ایک بہن بھی نانوتہ میں تھیں، اس لئے آنا جانا خوب رہتا تھا حضرت حاجی صاحبؒ کی خصوصی توجہات اور مربیانہ عنایات پورے خانوادہ کے بچوں پر تھیں اس لئے مولانا محمد مظہر، مولانا محمد احسن، اور مولانا محمد منیر صاحبؒ حضرت حاجی صاحب کے فیض گنجور سے کیسے محروم رہ سکتے تھے چنانچہ اول اول مولانا محمد مظہر صاحب نانوتویؒ نے ارادت کا تعلق حضرت حاجی صاحبؒ سے قائم کیا تھا۔
پروفیسر ایوب قادریؒ لکھتے ہیں:
’’حضرت مولانا محمد مظہر صاحب نانوتویؒ استاذ حدیث مجاز بیعت اعلی حضرت حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکیؒ و محدث گنگوہی حضرت مولانا رشید احمد صاحبؒ‘‘
استاذ محترم حضرت مولانا اطہر حسین صاحبؒ فرماتے ہیں:
وبایع الشیخ الکنکوہی ونال الخلافۃ منہ وکان اخذ الاذکار اولا عن الشیخ امداد اللّٰہ المھاجر المکی فلقنہ ثم فوضہ الی حضرۃ الشیخ الکنکوہی کمایظھر عن بعض رسائلہ فی ’’امداد المشاق‘‘
مولانا محمد مظہر صاحبؒ جب حج بیت اللہ کیلئے مکۃ المکرمہ پہنچے تو اپنے مرشد روحانی محبوب سبحانی حضرت اقدس حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکیؒ سے خصوصیت سے ملاقاتیں فرمائیں اور فیض حاصل کیا۔
حکیم الاسلام حضرت قاری محمد طیب صاحبؒ اپنے والد صاحبؒ کے حوالے سے لکھتے ہیں :
’’حضرت مولانا محمد مظہر صاحب نانوتویؒ نے ایک مرتبہ خواب دیکھا کہ ایک تخت ہے جس کے صدر پرحضرت گنگوہیؒ اور حضرت نانوتویؒ تشریف رکھتے ہیں، مولانا نے یہ خواب ایک عریضہ میں لکھ کر جس میں بیعت کی درخواست بھی تھی، حضرت حاجی امداد اللہ صاحبؒ کی خدمت میں روانہ کردیا، حضرت نے جواب میں خواب کی تعبیر یہ تحریرفرمائی کہ دونوں میں سے کسی سے بیعت کرلو، چنانچہ مولانا محمد مظہر صاحب حضرت نانوتویؒ کے پاس خط لے کر آئے کہ مجھے بیعت کرلو، انہوں نے گھبرا کر فرمایا کہ آپ ہی مجھے بیعت فرمالیں، فرمایا کہ لو یہ خط ہے اور حکم ہے، حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتویؒ نے (اس خط کو پڑھکر) فرمایا کہ میں آپ کو صحیح مشورہ دیتا ہوں کہ گنگوہ تشریف لے جائیں وہاں گئے تو حضرت گنگوہیؒ نے بھی قائل فرمایا مگرپھر بیعت فرما لیا‘‘
حضرت مولانا عبدالحئی صاحبؒ فرماتے ہیں:
’’وکان عالما متبحراً متقنا للفنون بایع الامام رشید احمد الکنکوہی واجازہٗ وکان کثیر القرأۃ للقراٰن، دائم الذکر، رطب اللسان باسم الذات بعیداً عن التکلف ،زاہداً متقشفا وقورا قد القیت علیہ المہابۃ‘‘
شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد مظہر صاحب مہاجر مکیؒ فرماتے ہیں:
’’حضرت مولانا محمد مظہر صاحبؒ اعلی حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی سے عمر میں بڑے تھے لیکن حضرت کے خلفاء اور محبوب ترین خادم تھے‘‘
مولانا محمد ثانی حسنی مظاہریؒ لکھتے ہیں:
’’حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ سے اگرچہ عمر میں بڑے تھے لیکن انہیں سے بیعت ہوئے، بیعت کیا ہوئے ان کی محبت و عشق میں ڈوب گئے، حضرت گنگوہیؒ بھی آپ کی بڑی عزت فرماتے، اجازت و خلافت سے بھی آپ کو مشرف کیا‘‘
حضرت مولانا عاشق الٰہی صاحب میرٹھیؒ (متوفی یکم شعبان ۱۳۶۲ھ - ۱۹۴۳ء) فرماتے ہیں۔
’’مولانا محمد مظہر صاحب نانوتویؒ عمر میں حضرت امام ربانی سے بڑے تھے مگر عقیدت کے اعتبار سے گویا حضرت کے جاں نثار خادم اور عاشق جانباز تھے، جب (گنگوہ) تشریف لاتے تو بے اختیار حضرت (گنگوہی) کے قدموں پر بوسہ لیتے اور آنکھوں میں آنسو بھر لایا کرتے …حضرت امام ربانی شرماتے اور یوں فرماتے کہ’’مولانا آپ مجھے کیوں نادم فرمایا کرتے ہیں، آپ میرے بڑے ہیں، مجھ پر آپ کا ادب ضروری ہے، آپ ایسا کام کرتے ہیں تو مجھ کو بڑی شرم آتی ہے، مولانا مظہرصاحبؒ صاحبِ بصیرت تھے حضرت کے علو شان اور مرتبت اور اپنی فرط محبت کے سبب جو کچھ کرتے تھے، وہ ان کا طبعی تقاضا تھا مگر حضرت امام ربانی کبر سنی کے پاس و لحاظ اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد من لم یرحم صغیرنا ولم یؤقرکبیرنا فلیس منا
کے امتثال کو بھول نہیں سکتے تھے۔
حضرت اما م ربانی مولانا رشید احمد گنگوہیؒ مولانا محمد مظہرصاحبؒ کا جو احترام کرتے تھے اس سے آپ واقف ہو چکے تو مناسب معلوم ہوتا ہے کہ علماء دیوبند کے روحانی پیشوا سید الطائفہ حضرت حاجی امداد اللہ صاحب کی نظروں میں اس گوہر کی جو وقعت اور عزت تھی اس کو بھی بیان کردیا جائے۔
مرقومات امدادیہ میں ہے کہ حضرت حاجی صاحبؒ نے تحریر فرمایا :
’’اگر مولوی محمد مظہر نانوتہ میں تشریف رکھتے ہوں تو بعد سلام شوق ملاقات فرما کر یہ پیام دیں کہ اس یکتائے زمانہ کو اپنی جماعت میں اپنے دوستوں میں شمار کرتا ہوں، دعاء خیر سے غافل نہیں ہوں، خاطر جمع فرمادیں اور جو کچھ ذکر و شغل سے متعلق دریافت کرنا منظور ہو تو بذریعہ احقر یا مولوی رشید احمد صاحب کہ ان کو بجائے احقر جانیں، معلوم کریں‘‘۔
سید الطائفہ حضرت حاجی امداد اللہ صاحبؒ کو مذکورہ تحریر سے مولانا محمد مظہر صاحبؒ کے بلند و بالا مقام و مرتبہ، آپؒ کی عظمت< شان و جلالت برہان (جو حضرت حاجی صاحبؒ کی نظروں میں تھی) کا پتہ چلتا ہے۔
تقوی و طہارت
حضرت مولانا محمد مظہر صاحب نانوتویؒ جس طرح علم و فن میں یکتا تھے اسی طرح خلوص و للّٰہیت، زہد و عبادت،استغناء و توکل، سلوک و تصوف تقوی و تدین میں بھی اپنی مثال آپ تھے اور اپنی عارفانہ صفات، بزرگانہ عادات،متقیانہ خصوصیات اور شمائل و خصائل کی وجہ سے مشہور و معروف تھے۔
مظاہرعلوم سہارنپور کے سابق شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا صاحب مہاجر مدنیؒ فرماتے ہیں
’’مدرسہ کے اوقات میں جب کوئی مولانا قدس سرہ کا عزیز ذاتی ملاقات کیلئے آتا تو اس سے باتیں شروع کرتے وقت گھڑی دیکھ لیتے اور واپسی پر گھڑی دیکھ کر (حضرت کتاب میں ایک پرچہ رکھا رہتا تھا) اس پرتاریخ اور ان منٹوں کا اندراج فرما لیتے اور ماہ کے ختم پر ان منٹوں کو جمع فرماکر اگرنصف یوم سے کم ہوں تو آدھے روز کی رخصت لے لیتے اور گرنصف یوم سے زائد ہوتا تو ایک یوم کی رخصت مدرسہ میں لکھوا دیتے البتہ اگرکوئی فتویٰ وغیرہ پوچھنے آتا یا مدرسہ کے کسی کام سے آتا تو اس کا اندراج نہیں فرماتے تھے۔
حج بیت اللہ
حضرت مولانا محمد مظہر صاحبؒ کو حج بیت اللہ کی ایک عرصہ سے تمنا تھی اور بلاشبہ مسلمان کو ہونی چاہئیے چنانچہ اللہ رب العزت نے یہ خواہش بھی پوری فرمادی اور ظاہری اسباب بھی مہیا ہوگئے تو پہلا حج ۱۲۷۷ ھ مطابق ۱۸۸۱ء میں کیا پھر سترہ سال کے بعد دوبارہ حج بیت اللہ کی سعادت سے سرفراز ہوئے یہ وہ دور تھا جب ٹرکی اور روس میں باہم جنگ چھڑی ہوئی تھی عوام میں یہ مشہور ہوگیا کہ دراصل سفر حج کا بہانہ کرکے ملک روم تشریف لے جا رہے ہیں تاکہ حکومت ٹرکی کی جانب سے والنٹیر جماعت میں شرکت فرما کر جہاد کریں مگر لوگوں کا یہ خیال غلط تھا۔
سفر حج پر جانے والا یہ قافلہ تقریباً سو افراد پر مشتمل تھا بقول حضرت مولانا محمد زکریاصاحبؒ بارہ شوال کو سہارنپور سے روانہ ہوئے علماء وقت کے ایک جم غفیر کو آپ کے ہمراہ حج کی سعادت حاصل ہوئی اس مبارک قافلہ میں مشاہیر علماء میں سے حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ (۱۲۴۸ھ - ۷ ۹ ۲ ۱ھ) حکیم ضیاء الدین صاحب، مولانا محمد مظہر صاحب مع اہلیہ، مولانا محمد یعقوب صاحب نانوتوی (۱۲۴۹ھ - ۱۳۰۲ء) حضرت مولانا رفیع الدین صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبند (۱۲۵۲ھ …۱۳۰۸ھ) شیخ الہند حضرت مولانا محمود الحسن صاحب دیوبندیؒ (۱۲۶۸ھ - ۱۳۳۹ھ) حضرت مولانا حکیم محمد حسن صاحب، مولوی حکیم محمد اسماعیل صاحب، حضرت مولانا احمد حسن صاحب کانپوری، حضرت مولانا عنایت الٰہیؒ مہتمم مظاہرعلوم (وقف) سہارنپور، حضرت مولانا محمد منیر صاحب نانوتویؒ (ولادت ۱۲۴۷ھ ہے) برادر اصغر مولانا محمد مظہر جیسے اکابر و اعیان پر مشتمل یہ وفد امام ربانی حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کی سیادت و قیادت میں ۱۲شوال ۱۲۹۴ھ کو سہارنپور سے روانہ ہوا۔ ۲۱/ذی قعدہ کو یہ قافلہ خیر و عافیت کے ساتھ مکۃ المکرمہ پہنچا اور ربیع الاول ۱۲۹۵ھ میں واپس تشریف لایا۔
حضرت مولانا عبد الحئی صاحبؒ فرماتے ہیں ’’حج کے اس مقدس سفر میں مکۃ المکرمہ میں پیشوائے دیوبند حضرت حاجی امداد اللہ صاحب تھانوی مہاجر مکیؒ سے خصوصیت سے ملاقاتیں فرمائیں نیز مدرسہ صولتیہ مکۃ المکرمہ کے بانی مناظر اسلام حضرت مولانا علامہ رحمت اللہ صاحب کیرانوی بن خلیل الرحمن سے بھی ملاقات فرمائی نیز مدینہ منورہ میں حضرت شیخ عبد الغنی بن سعید العمری سے بھی ملاقات فرمائی اور خوب خوب فیض حاصل کیا۔
بہرحال مذکورہ بالا طویل سفر کیلئے حضرت مولانا محمد مظہرصاحب نانوتویؒ نے ۶/ماہ کی رخصت لی تو آپ سے متعلقہ اسباق، عہدۂ صدارت کی تمام تر ذمہ داریاں اور دیگر امور کو محدث کبیر حضرت مولانا احمد علی صاحب محدث سہارنپوریؒ نے اپنی گو ناگوں مصروفیات و مشغولیات کے باوجود باحسن وجوہ پورا فرمایا تھا چنانچہ مدرسہ مظاہرعلوم کی روئداد میں مرقوم ہے۔
’’مولوی محمد مظہر مدرس اول و مولوی احمد حسن مدرس دوم و مولوی عنایت الٰہی محرر مدرسہ و پیر محمد خاں معاون نے واسطے حج بیت اللہ کے زیارت حرمین شریفین کے اس مدرسہ سے شروع سال سے چھ مہینے کی رخصت طلب کی چنانچہ ان کو بموجب ان کی درخواست کے رخصت مطلوب عطا کی گئی و باقتضائے مصلحت وقت و کمی وصول زر چندہ تنخواہ ایام رخصت نہیں دی گئی۔ ایام غیبت مدرسین میں مولوی احمد علی صاحب ہمیشہ مدرسہ میں تشریف لاتے اور جماعت اولیٰ اور جن کو مناسب جانتے درس دیتے رہتے۔‘‘ (روداد مظاہر علوم ۱۲۹۴ھ ص۲) (مزید تفصیل آئینہ مظاہرعلوم جلد۱۰، شمارہ ۴و ۵ میں مولانا احمد علی صاحبؒ کے تذکرہ میں ملاحظہ فرمائیں)۔
علمی کارنامے
حضرت فخر الاماثل علیہ الرحمۃ کا سب سے بڑا کارنامہ مظاہر علوم سہارنپور ہے جس کو مدرسہ سے ادارہ بنانے میں حضرت ہی کا عملی حصہ رہا ہے اور اس کو دوامی شہرت، عوامی مقبولیت اس کے فضلاء و فارغین میں زہد و قناعت اور تصوف و للّٰہیت، تعلیمی معیار، وقارکی بلندی، مدرسین و ملازمین کے اوقات کی پابندی، اکابر مظاہر علوم اور ولی اللّٰہی مسلک کی صیانت و حفاظت غرض مظاہر علوم سہارنپور کی بہرنوع خدمت، طالبان علوم دینیہ اور تشنہ کامان علوم نبویہ کی اپنے علوم و معارف سے سیرابی و فیضیابی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ حضرت فخر الاماثل نے علمی و تصنیفی کارنامے بھی انجام دئے چنانچہ اس سے پہلے گزر چکا ہے کہ لکھنؤ کے مکتبہ نول کشور میں طبع ہونے والی کتابوں کو تصحیح کا کام مکمل ذمہ داری کے ساتھ انجام دیتے تھے اور اہل علم حضرات اس حقیقت سے واقف ہوں گے کہ کسی بھی علمی تحقیقی اور تصنیفی کام کی تصحیح، تصنیف و تالیف سے بڑھ کر اور تصحیح میں دو گنا ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔
حضرت فخر الاماثل کے چھوٹے بھائی صاحب تصنیف کثیرہ، علوم عالیہ وآلیہ کے ماہرحضرت مولانا محمد احسن صاحب نانوتویؒ جنہوں نے تحریک آزادی میں سرگرم حصہ لیا تھا اور دہلی کالج سے عربی کی تکمیل کی تھی ان کی کئی تصنیفات کی تصحیح فرمائی چنانچہ جناب ایوب قادری صاحبؒ (متوفی ۱۴۰۴ھ) لکھتے ہیں۔
’’فقہ حنفی کی مشہور و متداول کتاب درمختارکا اُردو ترجمہ مشہور عالم مولانا خرم علی بلہوری (متوفی ۱۲۷۱ھ - ۱۸۵۴ء) نے حسب فرمائش نواب ذو الفقار الدولہ رئیس باندہ ۱۲۵۸ھ مطابق ۱۸۴۲ء میں کتاب النکاح سے شروع فرمایا۔ محرم۱۲۷۱ھ مطابق ۱۸۵۴ء میں قریب اختتام تھا کہ پیغام اجل آگیا۔ مولانا محمد احسن صاحبؒ نے اس ترجمہ کو ان کے ورثاء سے اشاعت کی غرض سے خریدا۔ اور بقیہ ترجمہ از باب الاذان تا کتاب الصلوٰۃ مکمل کیا اور جن مقامات کو مولانا خرم علی بلہوریؒ نے چھوڑ دیا تھا ان کو مکمل کیا اور اس ترجمہ کو ہرطرح سے صحیح درست کرکے چند اصحاب کی شرکت میں اول چوتھی جلد مطبع صدیقی بریلی سے شائع کی اور اس کا نام غایۃ الاوطار رکھا لیکن یہ سلسلہ قائم نہ رہ سکا مولانا محمد احسنؒ کو سخت فکر ہوئی اور ایک اشتہار اس باب میں طبع کرکے مشتہر کیا نواب کلب علی خاں رئیس رام پور (متوفی۱۲۰۴ھ مطابق ۱۸۸۷ء) نے طباعت کے جملہ مصارف برداشت کئے مولانا محمد احسنؒ نے نواب رامپور کی معارف پروری کا خاص طور سے ذکر کیا ہے اس کتاب کی تصحیح و تکمیل میں مولانا محمد احسنؒ کے بڑے بھائی مولانا محمد مظہر صاحب نانوتویؒ (متوفی ۱۳۰۲ھ صدر مدرس مدرسہ مظاہرالعلوم سہارنپور) بھی شریک رہے، اس ضخیم اور گراں قدر کتاب کی چاروں جلدوں کی طباعت ۱۲۸۸ھ مطابق ۱۸۷۱ء میں ہوئی۔
جناب ایوب قادری صاحب نے مذکورہ بالا واقعہ کو اپنی کتاب ’’مولانا محمد احسن نانوتوی‘‘ میں یوں لکھا ہے ’’مولانا محمد مظہر حدیث و فقہ میں بڑا درک رکھتے تھے، مولانا محمد احسن نانوتویؒ نے جب مولوی خرم بلہوریؒ کے ورثاء سے درمختار کا اُردو ترجمہ طباعت اشاعت کی غرض سے خریدا تو اس کتاب کے بقیہ ترجمے اور صحت و درستی میں مولانا محمد مظہرصاحب نانوتویؒ پورے پورے شریک رہے۔ جیساکہ مولانا محمد احسنؒ نے کتاب کے مقدمہ میں ذکرکیا ہے‘‘۔
حجۃ الاسلام حضرت الامام ابومحمد غزالیؒ کی مشہور عالم البیلی و عارفانہ کتاب احیاء علوم الدین کا اُردو ترجمہ مولانا محمد احسن نانوتویؒ نے منشی نول کشور کی فرمائش پر۱۲۸۱ھ مطابق ۱۸۶۴ء تا ۱۲۸۶ھ مطابق ۱۸۶۹ء چار ضخیم جلدوں میں کیا۔ اور مذاق العارفین تاریخی نام رکھا۔ ترجمہ بامحاورہ اور سلیس ہے تخریج عراقی سے احادیث کے مخارج و مآخذ کا حوالہ حاشیہ پرلکھ دیا، چنانچہ حضرت مولانا محمد مظہرصاحبؒ نے اس کو بھی بنظر غائر مطالعہ فرمایا اور مستقل حاشیہ کا داعیہ پیدا ہوا تو احیاء علوم الدین کے کئی قدیم نسخے بڑی کوششوں کے بعد حاصل کئے اور اصل کتاب میں چھپتی چلی آرہی غلطیوں، طباعت اور پروف ریڈنگ کی خامیوں کو غایت محنت اور عرق ریزی کے بعد اغلاط کو پاک کیا جس کے لئے قدیم نسخوں کو سامنے رکھا اور جو عبارات آپس میں گڈمڈ ہوگئیں تھیں ان کو صحیح کیا پھر مشکل لغات کی مختصر مگرنہایت جامع علمی تشریح و توضیح کی۔ اس سلسلہ میں مصر کے قدیم نسخوں کو بھی سامنے رکھا اور درج ذیل کتب سے بھی مراجعت کی ’’مجمع البحار، شرح حصن حصین، بیضاوی، مدارک، کشاف، جلالین، قاموس، مصباح المنیر اور صراح وغیرہ‘‘۔
اس کتاب کی تصحیح و تحشیہ میں دار العلوم دیوبند کے اولین صدر المدرسین حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب نانوتویؒ نے بھی مدد فرمائی جس کا تذکرہ خاتمۃ الطبع کے تحت بڑے القاب کے ساتھ فرمایا۔
اس کتاب کے آخر میں حضرت مولانا محمد یعقوب صاحبؒ کی طرف سے اُردو، عربی اور فارسی میں منظوم مادہ ہائے تاریخ طباعت بھی درج ہیں جن میں سے اُردو میں اس مصرعہ سے تاریخ طباعت نکلتی ہے۔
مظاہرعلوم سہارنپور کے شعبہ نشر و اشاعت کی طرف سے ہرسال ایک مختصر تعارفی کتابچہ’’اجمالی کیفیت‘‘ کے نام سے شائع ہوتا ہے، اس کے ص۸ پر’’خدمت حدیث شریف‘‘ کے تحت مرقوم ہے کہ ’’حضرت مولانا محمد مظہر صاحب نانوتویؒ نے احیاء العلوم کے حاشیہ کی طرح ’’مجمع بحار الانوار‘‘ کا ایک مختصر حاشیہ تحریر فرمایا جس کا ذکر مولانا حبیب الرحمن صاحبؒ محدث اعظمی نے کتاب مذکورکے مقدمۂ طباعت میں کیا ہے۔
تلامذۂ ذیشان
حضرت مولانا محمد مظہر صاحبؒ کے تمام شاگرد اور تلامذہ کی تعداد سینکڑوں سے متجاوز ہے کیونکہ آپ نے مظاہر علوم میں ایک دوسال نہیں مسلسل ۱۹/سال تک اہتمام کے ساتھ علوم دینیہ کے طالبوں پر اپنے علوم عرفانیہ اور فیوض روحانیہ کی ندیاں بہائی ہیں ان تمام تلامذہ ذیشان کی تعداد کیلئے کئی صفحات درکار ہیں تاہم چند مشہور و معروف شخصیات کے اسماء گرامی درج ذیل ہیں جن کا ذکر حضرت مولانا عبد الحئی صاحب حسنیؒ نے نزہۃ الخواطر کی آٹھویں جلد میں کیا ہے۔
حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ بانی دارالعلوم دیوبند (متوفی ۴/جمادی الاولیٰ ۱۲۹۷ھ)۔
حضرت مولانا امیر باز خا نؒ (۱۲۵۸ھ مطابق ۱۸۴۲ء - ۱۳۲۵ھ مطابق ۱۹۰۷ء )
حضرت مولانا اشرف علی سلطانپوری (ولادت ۷/ رمضان ۱۲۶۸ھ) مجاز حضرت گنگوہیؒ
محدث کبیر مولانا خلیل احمد انبہٹوی (متوفی پنجشنبہ ۱۶/ ربیع ۱۳۴۶) مجاز حضرت گنگوہیؒ
حضرت مولانا عبد الجبار عمر پوری (مشہور عربی شاعر)
حضرت مولانا راغب اللہ پانی پتی (متوفی ۱۳۱۴ھ)
حضرت مولانا نور احمد امرتسریؒ (متوفی ۱۳/شعبان ۱۳۴۸ھ مطابق۱۹۳۰ء)
حضرت مولانا حافظ جان محمد قاضی ریاست ٹونک۔
حضرت مولانا عبد المنان وزیر آبادی ماہر حدیث و رجال و حافظ صحاح (متوفی ۱۳۳۴ھ)۔
حضرت مولانا مقیم الدین کوٹی ٹانکی مدرسہ شوکت الاسلام سنڈیلہ (ہردوئی)۔
حضرت مولانا حکیم رحیم اللہ بجنوریؒ (متوفی ۱۳۴۰)۔
حضرت مولانا سید جمعیت علی پور قاضوی پروفیسر عربی کالج بھاولپور (متوفی ۱۳۴۱ھ)۔
حضرت مولانا فخرالحسن گنگوہیؒ (متوفی ۱۳۱۵ھ)۔
حضرت مولانا نورمحمد حقانی لدھیانوی (متوفی ۲۳/ذی الحجہ ۱۳۴۳ھ مطابق ۱۹۲۵ء)۔
حضرت مولانا محمد فاروقی خلیفۂ اجل حضرت گنگوہیؒ (متوفی ۱۳۲۰ھ)۔
حضرت مولانا حافظ قمر الدین سہارنپوری (متوفی ۲۷/محرم ۱۳۳۴ھ)۔
حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی (آپؒ کو مولانا محمد مظہر صاحبؒ سے اجازت حدیث حاصل ہے)۔
حضرت مولانا صدیق احمد انبہٹوی مفتی ریاست مالیر کوٹلہ پنجاب (متوفی ۱۳۴۲ھ)۔
حضرت مولانا ثابت علی پور قاضوی اول مدرس مظاہر علوم سہارنپور (متوفی ۲۰/ ربیع الثانی ۱۳۴۲ھ)۔
بعض کتب تواریخ میں حضرت معین الدین صاحب ابن حضرت مولانا محمد یعقوب نانوتویؒ کا اسم گرامی بھی ملتا ہے۔
مذکورہ بالا اسماء سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کیسی کیسی برگزیدہ ہستیوں اور ستودہ شخصیتوں نے حضرت فخر الاماثلؒ سے علم حاصل کیا ہے، خود حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتویؒ بھی مولانا کے شاگردوں میں تھے جس کا ذکر شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ نے بایں الفاظ کیا ہے۔
ومن مفاخرہ ان الشیخ العلامۃ بحر العلوم مولانا محمد قاسم النانوتوی اخذ عنہ بعض الکتب الابتدائیۃ کما اخبر مولانا ثابت علی المدرس بمظاہر علوم
حضرت مولانا محمد زکریا صاحبؒ کے اس قول کی تائید نزہۃ الخواطر سے بھی ہوتی ہے۔
نیز حضرت مفتی محمد نسیم امروہویؒ فرماتے ہیں ’’حضرت مولانا محمد قاسم نے بھی آپؒ سے بعض ابتدائی کتابیں پڑھی تھیں۔
حضرت مولانا انوار الحسن صاحب شیرکوٹی نے حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتویؒ کی ان کتابوں کی وضاحت بھی فرمادی جو انہوں نے حضرت فخر الاماثلؒ سے پڑھیں۔ فرماتے ہیں:
’’حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نے شرح مائۃ عامل، بدایۃ النحو، علم الصیغہ وغیرہ پڑھی تھیں۔
حضرت محدث کبیر مولانا خلیل احمد صاحب محدث سہارنپوری بھی حضرت فخر الاماثلؒ کے شاگرد رشید ہیں، شاگردی کی صورت یہ ہوئی کہ حضرت فخر الاماثلؒ کی شادی سہارنپور کے ایک گائوں لکھنوتی میں ہوئی تھی اور حضرت فخرالاماثلؒ رمضان المبارک گزارنے کے لئے وہیں تشریف لے جاتے تھے چنانچہ حضرت محدث کبیرنےؒ لکھنوتی جاکر آپ کے دریائے علم سے فیض حاصل کیا تھا۔
عادات و معمولات
آپ کی خوبیوں کو بیان کرنے کیلئے کئی صفحات درکارہیں تاہم چند خصوصیات پیش ہیں:
’’آپ قرآن مجید کی تلاوت بہت زیادہ کرتے تھے اور ہمیشہ ذکر بھی بکثرت کرتے تھے‘‘
’’اسم ذات‘‘کے ذکر سے برابر رطب اللسان رہتے تھے، تکلف سے دور دنیا سے بے پرواہ صاحب وقار تھے آپ کے چہرے پر ایک قدرتی رعب تھا‘‘۔
حضرت فخرالاماثلؒ کا رعب اور ہیبت اسقدر تھی کہ اچھے اچھے دل گردے والے بھی آپ سے بات کرنے سے ڈرتے تھے، مظاہر علوم کی چہاردیواری میں مدرس سے لیکر ملازم تک، ابتدائی طالب علم سے لیکر منتہی تک سب پر کڑی نظررکھتے تھے، ارباب مدرسہ اور سرپرستان حضرات آپ کا بہت اکرام و احترام اور پاس و لحاظ رکھتے تھے وہ مدرسہ کے کام کو اپنا کام سمجھ کر کرتے تھے۔ ۱۲۹۲ھ سے ۱۳۰۲ھ تک مظاہرعلوم کے تین سرپرستان رہے مگر روح و رواں حضرت فخر الاماثل علیہ الرحمہ ہی کی ذات بابرکات تھی۔
مدرسہ میں بڑی پابندی اور وقت پر تشریف لاتے کبھی بھی تاخیر نہ فرماتے، مدرسہ کا مکمل انتظام و انصرام پوری ذمہ داری کے ساتھ انجام دیتے تھے، نہایت کم گو، حق گو، سادہ لوح، سادگی پسند تھے، رمضان المبارک میں تراویح کے وقت خوشبو لگانے کا معمول مدتوں سے تھا، جمعہ کی نماز جامع مسجد میں ادا فرماتے تھے اور وقتاً فوقتاً وہاں تقریر بھی کرتے تھے جس میں مظاہر علوم کی ضروریات اوراسکے حالات و کیفیات سے عوام کو روشناس فرماتے تھے۔
سانحۂ ارتحال
آپ کی رحلت کی خبرکلفت اثرکا تذکرہ مظاہرعلوم کی روداد میں اس طرح ذکرکیا گیا ہے ۔
’’جناب مولانا مولوی محمد مظہر صاحبؒ مدرس اول جن کے اوصاف بیرون از بیان ہیں اس وقت آٹھ بجے شب ۲۴/ذی الحجہ ۱۸۸۵ء یکشنبہ کو بمرض درد گردہ سہارنپور میں اس جہان فانی سے رحلت فرما کر عالم جاودانی جنت الفردوس میں جا گزیں ہوئے۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔
اس صدمۂ جانکاہ سے ہندوستان کے اہل اسلام کو عموماً اور اس مدرسہ کے خیر خواہان کو خصوصاً جس قدر رنج وغم ہو وہ کم ہے، ایسے عالم باعمل اور فاضل اکمل، جملہ علوم مروجہ میں فائق اور تراویج دینیات میں سائق کا اس جہاں سے اٹھ جانا پس ماندگان کی نہایت کم نصیبی ہے، بعد انتقال مولوی سعادت علی مرحوم بانی اس مدرسہ کی نگرانی کا جملہ کاروبار انتظامی و خبرگیری مدرسہ بھی مولانا صاحب موصوف نے علاوہ تدریس کے اپنے ذمے لے رکھی تھی، جو کچھ عزل و نصب بابت انتظام مدرسہ ہوتا تھا بدوں صلاح و صوابدید مولانا ممدوح کے نہ ہوتا تھا، علاوہ اسکے فراہمی چند ہ میں بھی ازحد سعی فرماتے تھے اور تدریس کا یہ حال کہ علاوہ دیگرکتب دینیات کے اکثر ہرسال صحاح ستہ کا درس ختم ہوتا رہا الغرض مولانا مرحوم کا اس جہان فانی سے رحلت فرمانا اس شہرمدرسہ کے واسطے کمال حسرت و اندوہ کا واقعہ ہے، خدائے تعالیٰ ان کو غریق مغفرت کرے اور درجات عالیہ عنایت فرمائے‘‘
امام ربانی حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کو جب مولانا کے انتقال کی افسوس ناک خبر ملی تو بہت زیادہ مغموم ہوگئے اور حضرت محدث کبیر مولانا خلیل احمد صاحبؒ محدث کے پاس درج ذیل تعزیتی مکتوب ارسال فرمایا۔
’’اب حادثۂ جدیدہ یہ ہوا کہ مولوی محمد مظہر مرحوم ۲۴/شب ذی الحجہ کو فوت ہوئے عالم اندھیرا ہوا اب سب رفیق رخصت ہوئے دیکھئے کب تک میری قسمت میں اس دنیا میں دھکے لکھے ہیں‘‘۔
حضرت مولانا خلیل احمد صاحبؒ انبہٹوی کو اپنے استاذ حضرت مولانا محمد مظہرصاحبؒ سے بے پناہ عقیدت و محبت اور غایت انسیت و الفت تھی چنانچہ ایک بار جمادی الثانی ۱۳۴۰ھ میں جب سخت علیل ہوئے تو اپنا وصیت نامہ تحریر فرمایا اور اس میں لکھا کہ’’مجھے استادی مولانا محمد مظہر صاحب نانوتویؒ کے پہلو میں دفن کریں‘‘ لیکن حضرت مولانا خلیل احمد صاحبؒ کا عشق مدنی آقاء صلی اللہ علیہ وسلم سے جس قدر تھا دنیا کی کسی ذات سے نہیں ہو سکتا چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور گھٹن کی کشش نے مدینہ پاک کھینچ لیا اور دیار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں مدفون ہیں جہاں کا ذرہ ذرہ آفتاب و ماہتاب اور انوار الٰہی کی تجلیات سے تاباں ودرخشاں ہے اورہرمومن کی زبان پریہی ورد ہے۔ بقول حضرت شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ایوب قاسمیؒ:
مدینہ کی زمیں پر کاش مجھکو موت آجائے
حضرت مولانا محمد مظہر صاحبؒ کے ایک عظیم المرتبت فاضل دوست اور رفیق ادیب الہند حضرت مولانا فیض الحسن سہانپوریؒ جو لاہور کے اورینٹل کالج میں پروفیسر تھے اور اپنا ایک ذاتی اخبار ’’شفاء الصدور‘‘ نکالتے تھے حضرت ادیب الہند صاحبؒ کو جب مولانا محمد مظہر صاحبؒ کے انتقال کی خبر ملی تو کوہ غم ٹوٹ پڑا، حزن و غم اوررنج والم کی تصویر بن گئے اور اپنے اخبار میں مولانا کی حیات اور ان کے زریں کارناموں پر اپنے قلبی تاثرات کا اظہار کیا آپ کی وفات کو بہت بڑا حادثہ بتلایا۔
آپ کے ایک اور معاصر عالم جناب سرسید احمد خاں مرحوم (بانی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) کو جب اس سانحہ کی خبر ملی تو آپ نے بھی علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ علی گڑھ کے ۱۰/اکتوبر ۱۸۸۵ھ کی اشاعت میں اپنے گہرے رنج و غم اور کرب و قلق کا اظہارکیا اور افسوس ظاہرکیا کہ اجل نے عوام و خواص کو مولانا کے فیض سے محروم کردیا۔
شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا صاحب کاندھلوی مہاجر مدنیؒ اپنی مشہور کتاب تاریخ مظاہر میں فرماتے ہیں:
’’حضرت مولانا محمد مظہر صاحب نانوتویؒ کا وصال ۲۴/ذی الحجہ ۱۳۰۲ھ مطابق اکتوبر ۱۸۸۵ء کی شب ۸/بجے کے قریب بمرض دردگردہ پیش آیا،حضرت ممدوح نوراللہ مرقدہ ابتداء مدرسہ سے اب تک ہرنوع کا جزئی و کلی نظم فرماتے مدرسہ کی ہرنوع کی خبرگیری نگرانی حضرت ہی کے حوالے تھی، عزل و نصب ملازمین، ترقی وتنزلی مدرسین، حضرت ہی کی ذات سے متعلق تھا، اس حادثہ کی وجہ سے عام طلبہ پر بالخصوص طلبۂ حدیث پر اثر ہونا یقینی تھا، حضرت مولانا محمد مظہرؒ علی حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ سے عمر میں بڑے تھے لیکن حضرت کے خلفاء اور محبوب ترین خادم تھے۔
’’آپ نے ۲۴/ذی الحجہ ۱۳۰۲ھ کو اتوار کے دن ستر سال کی عمر میں وفات پائی۔
بہرحال حضرت مولانا محمد مظہرصاحب نانوتویؒ علم و عمل، زہد و تصوف، حلم و بردباری، رفق و نرمی، صداقت و امانت، نجابت و انابت،اخلاص و دیانت، دبدبہ و جلالت، خوف و خشیت اور سنت نبوی کے پابند، عشق الٰہی میں سرشار، متقی و پرہیزگار، اپنی ذات میں انجمن نابغۂ روزگار، خدمت خلق کے جذبہ میں ممتاز تھے، چنانچہ آپ کے انتقال کے بعد ان کی خالی جگہ پر آپ ہی جیسے مخلص و محنتی، متدین و متقی، بزرگ عالم،مظاہر علوم کیلئے اپنا تن من، دھن سب کچھ قربان کر دینے والے جذبہ و حوصلہ جیسی صفات سے متصف شخص کی ضرورت پیش آئی، مگر آپ جیسا آدمی نظرنہیں آیا چنانچہ مجبوراً اس وقت کے موجودہ مدرسین و ملازمین کے عہدوں میں تغیر و تبدل کیا گیا۔
حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمن بجنوریؒ فرماتے ہیں:
وصال کے وقت بمطابق حدیث شریف
علامۃ موت المومن حتی اذ۱قرب وصالہ عرق جبینہ
یعنی مومن کی موت کی علامت یہ ہے کہ وصال کا وقت جب قریب ہوتا ہے تو پیشانی پر پسینہ آتا ہے بعد وصال کے آپ کا چہرہ نہایت منور اور خوش و خرم معلوم ہوتا تھا۔
حضرت مولانا محمد مظہر صاحب نانوتویؒ کے ایک قریبی عزیز جناب حضرت حکیم احمد عشرتی نانوتوی اپنی کتاب ’’مکتوبات مولانا محمد یعقوب‘‘ میں فرماتے ہیں:
’’حضرت مولانا محمد مظہر صاحبؒ کے تین بھائی تھے اور تینوں نامی گرامی بزرگ، مجاہد آزادی اور صاحب علم و فضل تھے جن میں مولانا کے علاوہ حضرت مولانا محمد احسن صاحب نانوتویؒ اور حضرت مولانا محمد منیر صاحبؒ، حضرت مولانا محمد مظہر صاحبؒ کی کوئی اولاد نہیں ہوئی اور مولانا محمد احسن کے ایک فرزند مولوی محمد اسماعیل نانوتوی تھے، اسی طرح حضرت مولانا محمد منیر صاحب کے بھی ایک فرزند محبوب الرحمان نامی تھے‘‘
علم وعرفان کے اس گرانمایہ سرمایہ کو سہارنپور کے مشہور قبرستان شاہ کمال الدینؒ میں ہزاروں سوگواروں نے سپرد خاک کیا۔
