⛌

بانیان کرام

حضرت قاضی فضل الرحمن سہارنپوریؒ

سید الطائفہ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ کے جرعہ نوش اور حضرت اقدس حافظ ضامن شہیدؒ کے مرید خاص حضرت قاضی فضل الرحمن رئیس سہارنپور کا نام نامی اسم گرامی محتاج تعارف نہیں ہے، آپؒ مظاہر علوم سہارنپور کے اولین دور کے معاون خصوصی اور مہتمم دوم تھے۔ آپؒ نہایت ہی خدا رسیدہ برگزیدہ انسان تھے، سخاوت، فیاضی، ہمدردی و خبرگیری اور مدرسہ کے ہرمعاملہ میں اپنی دریادلی کے وہ انمٹ نقوش ثبت فرمائے کہ اس کا صلہ اور اجر اللہ تعالیٰ ہی عطا فرمائیں گے۔
مظاہر علوم سہارنپور کو جن قدسی نفوس نے علوم و فنون کا مظہر اور صلاح و اصلاح کا محور بنایا تھا ان میں ایک تابندہ نام آپؒ کا بھی ہے،مدرسہ کے کلی و جزئی امور پر آپ کی نظر رہتی تھی، بانی مدرسہ حضرت مولانا سعادت علی سہارنپوریؒ کے دست راست تھے، چنانچہ ۱۲۸۶ھ میں جب حضرت مولانا سعادت علیؒ وصال فرما گئے تو بار اہتمام و انتظام آپؒ کی طرف منتقل ہوا اور۱۲۹۰ھ تک خوش اسلوبی کے ساتھ ذمہ داریاں نبھائیں۔
۱۲۹۱ھ میں حضرت مولانا احمد علیؒ محدث سہارنپوری آپؒ کے دست راست بنائے گئے اور مدرسہ کی روئدادوں میں دونوں حضرات کے اسماء سامی بحیثیت مہتمم لکھے جانے لگے۔
حضرت مولانا احمد علیؒ ۱۲۹۷ھ میں انتقال فرما گئے اور خود قاضی صاحب پیرانہ سالی کی وجہ سے ضعیف ہوگئے تو حضرت مولانا فیض الحسنؒ، حضرت مولانا ذو الفقار علیؒ، حضرت مولانا احمد حسنؒ، حضرت مولانا خلیل الرحمنؒ اور ڈپٹی نجف علی پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی، یہ حضرات قاضی صاحب کا نہ صرف تعاون فرماتے بلکہ مدرسہ کے کلی و جزئی امور میں خصوصی دلچسپی لیتے۔ ۳/رجب ۱۳۲۲ھ کو مجلس شوریٰ کے رکن رکین بنائے گئے اور تاحیات اس منصب عظیمہ کو تقویت پہنچائی۔
۱۵/شوال ۱۳۲۶ھ مطابق ۱۰/نومبر ۱۹۰۸ء سہ شنبہ کے دن انتقال ہوا اور عیدگاہ سے متصل آبائی قبرستان میں سپرد خاک کئے گئے۔
مظاہر علوم کی روداد میں قاضی صاحب کے کارناموں اور خدمات کو بایں الفاظ یاد کیا گیا ہے۔
’’جناب قاضی فضل الرحمنؒ کے مناقب اور اوصاف سے کوئی دیندار ناواقف نہ ہوگا، آپ کا ہر دلعزیز اور ہر ایک اسلامی خدمات میں دل و جان سے ساعی ہونا ایک فطری جوہر تھا اور آپ کا ذی وجاہت و قابلیت خداداد ہونا زیادہ تر موجب کامیابی و بہبودی اہل اسلام سہارنپور کا ہر امر میں ہوتا تھا، تمام اہل اسلام دور دور تک آپ کے و جود باجود کو دینی امور میں بہت غنیمت سمجھتے تھے اور بدوں صلاح و صواب دید جناب قاضی صاحب کے امور معظمہ دین میں کار بند نہ ہوتے تھے اور ان ہی کے مشورہ سے تمام کار دین سر انجام ہوتے تھے غرض کہ ہر ایک امر دینی میں جناب قاضی صاحب میر مجلس اور اعلی مشیر تھے، ابتداء مدرسہ سے اب تک جناب قاضی صاحب نے برابر اس مدرسہ کی سرپرستی ہر قسم کی فرمائی اور زر نقد اور سامان ضروری سے بھی حالت ضعف اور ابتدائے زمانہ میں ہرطرح کی خبرگیری اور معاونت کی، ایسے سرپرست کا مدرسہ کے سر سے اٹھ جانا باعث نہایت افسوس اور صدمہ عظیم کا ہے، اللہ تعالیٰ ان کو غریق رحمت کرے۔ (روداد مظاہر علوم ۱۳۲۶ھ)


ہماری شاخیں

Designed by Madrasa Mazahir Uloom itself