شعبہ تعلیمات
یہ شعبہ بھی مدرسہ کے قدیمی شعبوں میں سے ہے ،جب تک طلبہ کی کثرت نہ تھی اس وقت تک افرادبھی کم تھے اورایک ایک شخص کئی کئی امورانجام دیتاتھا لیکن جب طلبہ کی کثرت ہوئی،تعلیمی درجات میں اضافے ہوئے،اخراجات میں بھی زیادتی ہوئی تو عملہ میں بھی اضافہ کی ضرورت پیش آئی۔
حضرت مولاناعبدالمجیدمہیسرویؒ،حضرت مولاناسیدظریف احمدپورقاضویؒ،حضرت مولاناعلامہ محمدیامین سہارنپوریؒ، حضرت مولاناانعام الرحمن تھانویؒ ،حضرت مولاناسیدوقارعلی مدظلہ ،حضرت مولاناالطاف حسین مظاہری وغیرہ نے اپنے اپنے زمانے میں اس شعبہ کی قابل قدرخدمات انجام دی ہیں۔چنانچہ ڈیڑھ سوسال قدیم مدرسہ کا تعلیمی ریکارڈ،نتائج اور دیگر بنیادی معلومات پورے انضباط کے ساتھ مرتب طورپررکھی جاتی ہیں۔
اس شعبہ کے تحت درس نظامی کے مطابق قرآن کریم ،تفسیر،اصول تفسیر،تجوید،حدیث،اصول حدیث،فقہ،اصول فقہ، فرائض، بلاغت، معانی، ادب، مضامین،انشاء،منطق،فلسفہ وغیرہ علوم عربی،فارسی اور اردو کی تعلیم کا مکمل انتظام ہے اسی کے زیر انتظام جامع مسجد کلاں سہارنپور ، خلیلیہ شاخ گھنٹہ گھر،معارف القرآن گوٹے شاہ ،شاخ مظفریہ محلہ اسلام آبادوغیرہ جملہ مکاتب کے درجات حفظ وناظرہ کا نظم بھی اسی شعبہ سے متعلق ہے اسی طرح مدرسہ کی تعطیلات کے موقع پر طلبہ عزیز کو کنسیشن فارم ،سردیوں میں لحاف ،کمبل،اور ماہانہ وظائف کی تقسیم نیز ماہانہ سہ ماہی اور سالانہ امتحانات کی ذمہ داریاں بھی اسی شعبہ سے انجام دی جاتی ہیں ۔
اس وقت اس شعبہ میں کئی افرادتعلیمات کے امورکی انجام دہی میں مصروف ہیں۔
