⛌

صدر المدرسین

(۶) حضرت مولاناامیراحمدکاندھلویؒ

حضرت مولانا امیراحمد بن جناب عبدالغنی صاحب کاندہلویؒ۵/صفرالمظفر۱۳۲۷ھ دوشنبہ کے دن کاندھلہ میں پیدا ہوئے، ابتدائی دینی تعلیم کے بعد۱۶سال کی عمرمیںمظاہرعلوم سہارنپورتشریف لاکر۱۳۴۲ھ میں داخلہ لیا اور کافیہ، قدوری، مفیدالطالبین ، نورالایضاح،ہدایۃ النحو،قال اقول اورایساغوجی سے اپنی تعلیم کی شروعات کی،۱۳۴۳ھ میں اصول الشاشی،کافیہ،شرح تہذیب،بحث فعل ،کنزالدقائق اورالمختصرالقدوری۔۱۳۴۴ھ میں شرح وقایہ،شرح جامی،تلخیص المفتاح،قطبی اورمیرقطبی، ۱۳۴۵ھ میں ہدایہ اولین،مختصرالمعانی،نورالانواروغیرہ،۱۳۴۶ھ میں جلالین،مشکوٰۃ المصابیح،مقامات حریری،سبعہ معلقہ اورترجمہ قرآن کریم پڑھا،۱۳۴۷ھ میں دورۂ حدیث شریف پڑھکرامتحان سالانہ میں امتیازی نمبرات حاصل کئے۔
آپ کے دورۂ حدیث کے اساتذہ میں شیخ الاسلام حضرت مولاناسیدعبداللطیف پورقاضویؒ،استاذالکل حضرت مولانا عبدالرحمن کامل پوریؒ،حضرت مولانامنظوراحمدخان سہارنپوریؒ اور شیخ الحدیث حضرت مولانامحمد زکریامہاجرمدنیؒ خصوصیت سے قابل ذکرہیں۔مظاہرعلوم سے فراغت کے بعدایک سال فنون پڑھااور۱۳۴۹ھ میںمدرس شاخ مقررہوئے،یہاں تدریس کے دوران صرف سات ماہ میں قرآن کریم بھی حفظ کرلیااورپہلی بار محلہ خانعالم پورہ کی مسجدمیں محراب بھی سنائی۔مختصرمدت میں حفظ قرآن کی وجہ بھی کبھی کبھی خودہی بیان فرماتے تھے کہ چہل حدیث کے اخیرمیں حفظ قرآن کی جودعاتحریرہے میں نے تجربۃً بعدنمازفجر قرآن کریم کے حفظ کرنے کا سلسلہ شروع کیااور مختصرمدت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے حافظ قرآن بنادیا ۔شوال۱۳۵۵ھ میں شاخ سے مظاہرعلوم منتقل ہوئے،آپ نے ۳۴سال تک مختلف علوم وفنون کی خدمت انجام دی ،اس دوران آپ نے ۳بارطحاوی شریف،۸بارترمذی شریف اور۱۴بارمشکوٰۃ شریف کادرس دیا۔آپ نے ۱۳۸۱ھ میں پہلی بارطحاوی پڑھائی تھی۔ آپ کے استاذحضرت مولانامفتی سعیداحمداجراڑویؒکے انتقال کی وجہ سے مظاہرعلوم کاعہدۂ صدارت خالی ہوگیاتھا،اس لئے ارباب حل وعقدنے ۶/شوال ۱۳۷۸ھ میں آپ کو صدرالمدرسین بنادیا۔
آپ کی تصنیفات اور تالیفات میں حاشیہ ابن ماجہ شریف،حاشیہ طحاوی شریف،مشکوٰۃ المصابیح،حاشیہ ترمذی شریف اور’’ درس نظامی کے مصنفین‘‘کے علاوہ اور بہت سی کتابوں پرتعلیقات اورحواشی خصوصیت کے ساتھ قابل ذکرہیں۔
مولاناکو دعوت وتبلیغ سے خاص طورپر عشق تھا اور یہی وجہ ہے کہ مظاہرعلوم میں قیام کے دوران طلبہ کی تبلیغی جماعتوں کے آپ ہی ذمہ دارتھے۔ حضرت مولانامحمدالیاس کاندھلویؒ نے سب سے پہلے جب کانپورکاتبلیغی سفرفرمایا توآپ کے ہمراہ حضرت مولاناامیراحمدکاندھلویؒ بھی تھے۔ حضرت مولاناقاری سیدصدیق احمد باندویؒ بھی آپ کے شاگردوں میں سے تھے ۔
علم وفضل کا یہ ماہتاب مختصرعلالت کے بعد۱۱/ذی الحجہ ۱۴۸۴ھ کوغروب ہوگیا،تدفین کاندھلہ میں ہوئی۔


ہماری شاخیں

Designed by Madrasa Mazahir Uloom itself